معاشی ترقی کا روڈ میپ: فنی تعلیم اور حکومتی اقدامات

خطابیات
عمرخطاب

ٹیکنیکل ایجوکیشن یا فنی تعلیم کسی بھی قوم کی سماجی اور معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور اس کی اہمیت کلیدی ہو جاتی ہے جہاں پیسیفک انٹرنیشنل جرنل کی دو ہزار چوبیس کی رپورٹ کے مطابق آبادی کا تریسٹھ فیصد حصہ پینتیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً چوبیس لاکھ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے تاہم فنی اداروں میں داخلے کی شرح بہت کم ہے اور یہ سالانہ لیبر مارکیٹ نئے نوجوانوں کے بیس فیصد سے بھی کم بنتا ہے۔ پاکستان اکنامک سروے دو ہزار سترہ تا دو ہزار اٹھارہ کی رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی شرح خواندگی اٹھاون فیصد ہے، جس میں مردوں کی شرح ستر فیصد جبکہ خواتین کی اڑتالیس فیصد ہے، اور یہی تعلیمی فرق فنی مہارتوں کے حصول میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ لیبر فورس سروے دو ہزار سترہ تا دو ہزار اٹھارہ کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس میں خواتین کی شرکت صرف بیس اعشاریہ چودہ فیصد ہے، جبکہ مردوں کا تناسب ستاسٹھ اعشاریہ ننانوے فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جدید معاشی تجزیوں اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق روایتی ڈگریوں کے مقابلے میں ٹیکنیکل تعلیم کا ریٹرن آن انویسٹمنٹ یعنی فائدہ دس گنا زیادہ تیز ہے، کیونکہ اڑسٹھ فیصد ٹیکنیکل گریجویٹس کو تین ماہ کے اندر ملازممت مل جاتی ہے جبکہ روایتی ڈگری ہولڈرز کے لیے یہ شرح صرف بتیس فیصد ہے۔ مثال کے طور پر ایک سالہ الیکٹریشن ڈپلومہ پر ہونے والی تقریبا ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری دو سال میں چھ سو فیصد منافع دے سکتی ہے، جبکہ چار سالہ بی ایس کی ڈگری پر دس لاکھ تک روپے سے زائد خرچ کرنے کے باوجود واپسی کا تناسب صرف اڑتالیس فیصد کے قریب رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف سولر انرجی کے شعبے میں ہی دو ہزار ستائیس تک پچاس ہزار سے زائد ٹیکنیشنز کی ضرورت ہوگی، جو فنی تعلیم کی بڑھتی ہوئی مانگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پاکستان میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی سطح پر این اے وی ٹی ٹی سی یعنی نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کو ایک ریگولیٹری ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے جو پالیسی سازی اور معیار برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہے۔ حکومت نے “سکلز فار آل” یعنی سب کے لیے ہنر کی قومی حکمت عملی کے تحت ایک جامع روڈ میپ تشکیل دیا ہے جس کا مقصد فنی تعلیم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔ اس سلسلے میں پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈیویلپمنٹ پروگرام ایک بڑا اقدام ہے جس کے تحت نوجوانوں کو ہائی ٹیک اور روایتی ہنر سکھائے جا رہے ہیں۔ فنی اسناد کی عالمی سطح پر قبولیت کے لیے نیشنل ووکیشنل کوالیفیکیشن فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے جو آٹھ مختلف لیولز پر مشتمل ہے۔

بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے یورپی یونین اور جرمنی کی جانب سے چونسٹھ ملین یورو کے بجٹ کے ساتھ “ٹی وی ای ٹی سیکٹر سپورٹ پروگرام” کا پانچ سالہ مرحلہ دو ہزار تئیس تا دو ہزار اٹھائیس شروع کیا گیا ہے، جس کا ہدف اٹھائیس ہزار نوجوانوں کو کمپیٹینسی بیسڈ ٹریننگ فراہم کرنا اور آٹھ سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کرنا ہے۔ پاک-چین اقتصادی راہداری کے تحت لاہور میں پنجاب تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اواور “لوبان ورکشاپس” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں چینی تعلیمی ماڈل کے ذریعے میکاٹرونکس اور الیکٹریکل آٹومیشن جیسے شعبوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی جیسے ادارے صوبائی سطح پر کثیر فنی اداروں کی نگراانی کر رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو برسرِ روزگار بنا کر ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

حکومت کے علاوہ پاکستان بھرمیں نجی طور پر بھی فنی تعلیم کو فروع مل رہاہے جس میں سب سے نمایاں کردار الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے جس نے بنو قابل کے نام اپنا میگا پراجیکٹ اعلان کیا ہے جو قابل تحسین ہے اور دوسرے نجی اداروں کے لیے ایک نمونہ بھی ہے۔ بہرحال پاکستان کی معاشی بقا اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل ہنر مندی کو ترجیح دی جائے، کیونکہ موجودہ دور میں ہنر مند ہاتھ ایک غیر ہنر مند ڈگری سے زیادہ معتبر اور منافع بخش ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف ملکی صنعت کو مضبوط کریں گے بلکہ پاکستانی ہنر مندوں کے لیے بیرون ملک روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *