جیکب آباد (نامه نگار)بائی پاس پر قائم کسٹم چیک پوسٹ، جس کا مقصد سرحدی نگرانی اور غیر قانونی کاروبار کی روک تھام تھا، اب مبینہ طور پر اسمگلنگ کا محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق چوکی انچارج ہریش کمار کی تعیناتی کے بعد غیر قانونی سرگرمیوں نے نہ صرف زور پکڑا بلکہ اسمگلنگ کے تمام سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق غیر ملکی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، اسلحہ اور بارودی سامان کھلے عام بغیر کسی مؤثر چیکنگ کے گزر رہے ہیں، جس سے نہ صرف قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال بھی سنگین خطرات سے دوچار ہو رہی ہے۔
ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہریش کمار نے جیکب آباد کے ایک بااثر اور پرانے مبینہ اسمگلر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے، جس کے روابط بلوچستان سے لے کر سندھ اور پنجاب تک پھیلے ہوئے ہیں مبینہ طور پر یہی شخص اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔
شہر میں یہ چہ مگوئیاں عام ہیں کہ مذکورہ شخص اسمگلنگ کے ذریعے کروڑ پتی نہیں بلکہ ارب پتی بن چکا ہے، اور اس کے اثر و رسوخ کے باعث کوئی بھی اس کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں کرتا۔
اعلیٰ حکام کو فوری طور پر اس سنگین معاملے کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔