تہران، بیروت، واشنگٹن: (اوصاف نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کی شہادت کے بعد حزب اللہ بھی جنگ میں شامل ہو گیا، اسرائیل پر راکٹ داغ دیئے،
جس کے بعد بیروت اور تہران میں دھماکے سنائی دیئے، دوحہ اور دبئی میں آج پھر دھماکے ہوئے ہیں، ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی قیادت بات چیت کرنا چاہتی ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر جارحانہ حملے کے بعد سے خطے میں صورت حال کشیدہ ہے، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی نہ صرف سیاسی و عسکری قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
بلکہ شہری مقامات پر بھی بم برسائے جا رہے ہیں جبکہ ایران کی طرف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کی جا رہی ہے، امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں برطانیہ بھی مل گیا ہے، اسرائیل نے لبنان پر بھی حملے شروع کر دیئے ہیں۔ایرانی میڈیا نے کہا ہے کہ کویت میں امریکی طیارہ ایف 15 گر کر تباہ ہو گیا، طیارے کو ممکنہ طور پر مار گرایا گیا۔
امریکی سینٹ کام کی جانب سے طیارہ گرنے کی تصدیق نہیں کی گئی، سینٹ کام نے صرف 3 امریکی فوجی مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔