​”رجیم چینج”عالمی خطرہ


تحریر۔نظام الدین

​”رجیم” فرانسیسی اور “چینج” انگریزی الفاظ کا مجموعہ ہے، جسے اردو میں”رجیم چینج”(نظام کی تبدیلی) کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سیاسی لغت کی ایک ایسی اصطلاح ہے جو دہائیوں سے عالمی سیاست، بالخصوص امریکی خارجہ پالیسی کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگرچہ حکومتیں گرانے کا عمل قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے، لیکن”رجیم چینج” کی اصطلاح جدید دور کی پیداوار ہے۔ یہ 1920اور 1930 کی دہائیوں میں پہلی بار امریکہ کے تعلیمی حلقوں میں استعمال ہوئی، لیکن اسے عالمی شہرت 1990 کی دہائی میں ملی۔ ​جب امریکی صدر بل کلنٹن نے 1998 میں “عراق لبریشن ایکٹ” پر دستخط کیے، تو باقاعدہ طور پر صدام حسین کی حکومت ختم کرنے کے لیے اس اصطلاح کو سیاسی رنگ دیا گیا۔ اس کا سادہ مفہوم کسی بیرونی قوت کی جانب سے فوجی مداخلت، خفیہ آپریشنز یا معاشی پابندیوں کے ذریعے کسی دوسرے ملک کی حکومت کا تختہ الٹنا اور وہاں اپنی پسند کا نظام یا قیادت لانا ہے۔ یہ عمل جمہوری طریقہ کار کے بجائے “زبردستی”کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ​عراق، لیبیا، افغانستان اور پاکستان کے بعد اب امریکہ، ایران میں “رجیم چینج” کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ امریکہ کی ایران میں مداخلت کی تاریخ طویل اور پیچیدہ ہے۔ 1953 کا “آپریشن ایجیکس”امریکہ کی پہلی بڑی “رجیم چینج” کامیابی تھی۔ تب سی آئی اے نے برطانوی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر ایران کے منتخب جمہوری وزیراعظم محمد مصدق کا تختہ الٹا اور شاہِ ایران کو مکمل اختیارات دیے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد امریکہ نے نئی حکومت کو ختم کرنے کی مسلسل کوششیں کیں، لیکن وہ دوبارہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ایران پر سخت ترین معاشی پابندیوں، “میکسمم پریشر” پالیسی اور ایٹمی تنصیبات پر سائبر حملوں کے باوجود وہاں کا نظام برقرار ہے۔
​حالیہ برسوں میں”مہسا امینی”کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھے گئے، لیکن ایرانی سیکیورٹی فورسز، پاسدارانِ انقلاب اور ‘بسیج’ کا ڈھانچہ اتنا مضبوط ہے کہ وہ عوامی احتجاج کو کچلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران میں اصل طاقت “اسٹیبلشمنٹ” یعنی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے۔ اگر سپریم لیڈر کی جانشینی کے وقت اسٹیبلشمنٹ کے اندرونی دھڑوں میں اختلاف پیدا ہو جائے، تو ایک “خاموش رجیم چینج” یا نظام کے داخل سے اصلاحات کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
​ایران میں روایتی فوجی بغاوت کے امکانات کم ہیں کیونکہ وہاں کا نظام “نظریاتی”بنیادوں پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ریاست، فوج اور مذہبی قیادت ایک ہی پیج پر ہیں۔امریکہ کے لیے براہِ راست فوجی مداخلت اب تقریباً نامکن ہے کیونکہ اس کی جانی و مالی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ امریکہ نے”سافٹ پاور”اور معاشی تنہائی کے ذریعے عوام کو ریاست کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کی، جو اب تک بارآور ثابت نہیں ہوئی۔”راقم الحروف” ایک طویل عرصے سے مشاہدہ کر رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ سمیت دنیا کے طاقتور ممالک مثلاً امریکہ، روس، برطانیہ، بھارت، پاکستان اور ایران کی قیادت “بوڑھے ہاتھوں” میں ہے۔ ان لیڈروں کی عمریں 75 سے 85 سال کے درمیان ہیں۔ یہ عمر نوجوانوں کی رہنمائی کرنے یا گوشہ نشین ہو کر عبادت کرنے کی ہے، نہ کہ حکومت کرنے کی۔ جوان سڑکوں اور سرحدوں پر خون بہا رہے ہیں جبکہ یہ بوڑھے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ یہ تمام لیڈران اب(اکثر صورتوں میں) صائب قوتِ فیصلہ سے محروم ہو چکے ہیں۔
​سچ تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں ان عمر رسیدہ لیڈروں سے جان چھڑانے کے لیے ایک بھرپور تحریک ہونی چاہیے اور قیادت چالیس سے پچاس سال کے متحرک افراد کو سونپ دینی چاہیے۔ لیکن افسوس کہ ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ دنیا اس وقت ایک ایسی بس میں سوار ہے جس کا ڈرائیور بہت بوڑھا ہے،اس کی بینائی کمزور ہے اور وہ اپنی ضد میں گاڑی کو کھائی کی طرف لے جا رہا ہے، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ یہی اس کی”عظمت”کا راستہ ہے۔ دنیا کا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کا اپنا مستقبل بہت مختصر ہے۔ ​دنیا کے 60 فیصد ممالک کی اعلیٰ قیادت بیسویں صدی کی “سرد جنگ”کی پیداوار ہے۔ 75 سال سے زائد عمر کے یہ سربراہان اس دنیا کے فیصلے کر رہے ہیں جہاں کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ طبی اور نفسیاتی طور پر اس عمر میں انسان “تبدیلی” سے ڈرتا ہے اور “طاقت کو برقرار رکھنے” کی جبلت اس پر حاوی ہو جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ محض ایک “بحث کرنے والا کلب” بن چکا ہے، کیونکہ وہاں بیٹھے بوڑھے بیوروکریٹس صرف وہی زبان بولتے ہیں جو ویٹو پاور رکھنے والے طاقتور ممالک کے مفاد میں ہوتی ہے۔ ​یہی وجہ ہے کہ دنیا کی اس بوڑھی قیادت نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جنگ بندی کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ یہ بوڑھے حکمران اپنی “مصنوعی ساکھ” کی خاطر ایٹم بم تک کا استعمال کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ وہ اپنی “میراث” کو تاریخ کے اوراق میں درج کروانے کے لیے پوری انسانی تہذیب کو داؤ پر لگا سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دنیا بھی اب (اپنے نظام کے لحاظ سے) بوڑھی ہو چکی ہے۔ ہر شے تبدیل ہو چکی ہے یا مصنوعی طریقے سے بدلی جا چکی ہے۔ ہر شے کا رومانس ختم ہو چکا ہے۔ اب جبکہ اس دنیا کا بھی ایک دن خاتمہ ہونا ہے، تو یہ بوڑھی قیادت شاید ایٹمی جنگ کے ذریعے اسے عبرتناک انجام تک پہنچانے پر تلی بیٹھی ہے۔؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *