پاکستان کی جانب سے ایران کو امریکی جنگ بندی منصوبہ پہنچایا گیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکا نے ایک 15 نکاتی منصوبہ تیار کیا اور پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچایا۔ منصوبے میں ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے تین بڑے جوہری مراکز بند کرے اور یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے۔
منصوبے میں ایران سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کرے اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد کم کرے۔ بدلے میں امریکا ممکنہ طور پر ایران پر عائد جوہری پابندیاں ختم کرے گا اور ملکی شہری جوہری پروگرام میں مدد فراہم کرے گا۔
ایک اور اہم نکتہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال ہو سکے۔ امریکی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی کی بھی تجویز ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو الجزیرہ اور رائٹرز سمیت متعدد بین الاقوامی ذرائع نے رپورٹ کیا ہے۔ اب تک ایران یا امریکا کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔