حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کی نئی علامت بن گیا ہے۔
یمن کے حوثی باغیوں نے اسرائیل کی جانب میزائل فائر کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں جنگ مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان یحییٰ سریع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس حملے کی تصدیق کی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل کو بیر شیبع کے قریب فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ علاقے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ اس انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران پر حملے جاری رہنے کی صورت میں کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
دوسری جانب سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں تقریباً دس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض کو معمولی زخم آئے۔
اسی دوران ایران سے منسلک گروہوں نے اردن میں کئی فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
خطے کے مختلف ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
کویت کے ہوائی اڈے پر بھی ڈرون حملوں سے ریڈار نظام کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
عمان میں ایک بندرگاہ پر حملے میں ایک کارکن زخمی ہوا جبکہ معمولی نقصان بھی ہوا۔
ادھر اسرائیل نے ایران کے شہر اصفہان میں حملہ کیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔
حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ تنازع اب کئی ممالک تک پھیل چکا ہے۔
عالمی رہنما کشیدگی کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں، تاہم حالات اب بھی غیر یقینی ہیں۔
مسلسل حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بحران جلد ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔