ماسکو( ویب ڈیسک )روس نے پیٹرول کی برآمدات پر عائد پابندی کو مزید سخت کرتے ہوئے اسے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں تک بھی توسیع دے دی ہے، جو اب 31 جولائی تک نافذ العمل رہے گی۔
اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اندرونِ ملک ایندھن کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے سپلائی کو مستحکم رکھنا ہے۔
روسی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق اب ان کمپنیوں پر بھی ہوگا جو پیٹرول تیار کرتی ہیں، جبکہ اس سے قبل صرف غیر پیداواری اداروں کو برآمدات سے روکا گیا تھا۔ تاہم بین الحکومتی معاہدوں کے تحت کچھ ممالک، جیسے منگولیا، کو اس پابندی سے استثنا حاصل ہوگا۔
حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ روس میں بہار کی زرعی مہم کے پیش نظر مقامی سطح پر ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانا ضروری ہو گیا ہے۔
دوسری جانب یوکرین کی جانب سے روسی توانائی تنصیبات پر ڈرون حملوں میں اضافے نے بھی برآمدی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان حملوں کے باعث روس کی یومیہ تیل برآمدی صلاحیت میں تقریباً 10 لاکھ بیرل تک کمی واقع ہوئی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں بالٹک سمندر کی بندرگاہوں است-لوگا اور پرائمورسک کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی اور قریبی علاقوں تک دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمدی راستے محدود ہونے اور ذخیرہ گاہوں کے بھرنے کے باعث روسی تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں کو پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ اضافی سپلائی سے بچا جا سکے۔
پٹرول مزیدمہنگاہوگا