وزیر توانائی اویس لغاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پور ی امید ہے چند دنوں میں بجلی بحران حل ہوجائے گا ، دن کے اوقات میں کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی،پانی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات ایران جنگ کی وجہ سے ہیں،پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے لوڈشیڈنگ ختم ہوجائے گی،ڈیزل سے پلانٹ چلا کر بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتے ،دو سال میں بجلی قیمتوں میں کمی کی ہے۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ایل این جی کو امپورٹ کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں،سستی گیس کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،پیک آوو ز میں لوڈشیڈنگ پر معذرت خواہ ہیں ، ایل این جی اور پن بجلی کی پیداوار بڑھنے سے لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی ۔
نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے سامنے لوڈشیڈنگ سے متعلق حقائق رکھنا چاہتے ہیں اور پیک اوقات میں ہونے والی لوڈشیڈنگ پر معذرت خواہ ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ان اوقات میں گیس کے ذریعے بجلی پیدا کرنا ممکن نہیں ہوتا، جس کے باعث بجلی کی فراہمی میں کمی آتی ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ خطے کی مجموعی صورتحال بھی توانائی کے شعبے کو متاثر کر رہی ہے، تاہم دیگرممالک کے مقابلے میں پاکستان کی حالت بہتر ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ملک کو مستقل اندھیروں سے نکالنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیموں سے پانی کے کم اخراج کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس وقت پن بجلی کی پیداوار 1676 میگاواٹ ہے جبکہ تقریباً 1530 میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دن کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جا رہی۔
وفاقی وزیرکا کہنا تھا کہ تمام بجلی گھر فعال ہیں اور اپریل کے پہلے پندرہ دنوں میں بجلی کی طلب 15 سے 20 ہزار میگاواٹ کے درمیان رہی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت مائع قدرتی گیس کے ذریعے 1671 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ پیداوار تقریباً 3000 میگاواٹ تھی۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ دیہی اور شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے میں بھی ضرورت کے مطابق لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مہنگے ایندھن جیسے ڈیزل پر بجلی پیدا کر کے عوام پر فی یونٹ 100 روپے کا بوجھ ڈالنا ممکن نہیں۔