ٹھٹہ بیروچیف ایم اعجازچانڈیو مھرانوی سے
سردیوں کی خوشبودار راتوں میں بھنبھور کے قریب ثقافتی مچ کچہری، سندھ کی قدیم روایات کو نیا رنگ
سردیوں کی خوشبودار اور ٹھنڈی راتوں میں سندھ کی قدیم تہذیبی اور ثقافتی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے بھنبھور کے قریب شہر گھارو میں ایک شاندار ثقافتی مچ کچہری کا اہتمام کیا گیا۔ اس ثقافتی پروگرام میں اسٹیج ڈرامے، طبلہ، لوک موسیقی، سگھڑوں کی باتیں، شعرا کی شاعری اور گلوکاروں کی سُریلی آوازوں نے محفل کو جادوئی بنا دیا۔
یہ ثقافتی مچ کچہری رات گئے تک جاری رہی، جس کا مقصد سردیوں کے موسم کو روایتی انداز میں منانا اور سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کی میزبانی سماجی رہنما احتشام کلیم بلوچ اور کلیم بلوچ نے کی، جن کی جانب سے آنے والے مہمانوں کو سندھ کی شناخت اجرک کے تحائف پیش کیے گئے۔
محفل میں گلوکار پوری رات سر بکھیرتے رہے، جبکہ لاڑ کے نوجوان شعرا جی ایم تھہیم، اشرف شیخ اور پنجایو کلمتی نے شاہ لطیف کے مختلف سروں میں شاعری پیش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ شیخ ایاز اور استاد بخاری کی شاعری بھی پڑھی گئی، جس سے محفل میں فکر و دانش کے نئے رنگ ابھر کر سامنے آئے اور سامعین بے حد متاثر ہوئے۔
مچ کچہری میں نوجوانوں، بچوں اور مختلف شعبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے پروگرام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مچ کچہری سندھ کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف سندھ کی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ نئی نسل کو بھی اپنی ثقافت سے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔
شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ایسی ثقافتی تقریبات باقاعدگی سے منعقد کی جائیں تاکہ سندھ کے لوک ادب، شاعری، موسیقی اور ثقافتی ورثے کو مزید فروغ ملے اور سندھ کی ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔