پی ایم اے لاہور کا نجی صحت اداروں کی کامیاب ہڑتال پر اظہارِ اطمینان، FBR کے POS نفاذ کی مخالفت

ہیلتھ پروفیشنلز پر باڈی کیمرے لگانے کا فیصلہ مسترد، مریضوں کی رازداری سنگین خطرے میں: ڈاکٹر واجدعلی

لاہور (محمد منصور ممتاز سے )

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) لاہور کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر واجدعلی نے نجی صحت کے اداروں کی جانب سے پنجاب کی 2 ڈویژنز میں کامیاب ہڑتال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر واجدعلی نے نجی ہسپتالوں، کلینکس اور دیگر طبی مراکز کی انتظامیہ اور عملے کی بھرپور یکجہتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہڑتالFBR کی طرف سے POS کے نفاذ کے خلاف ایک اہم اور کامیاب قدم ثابت ہوئی ہے۔
پی ایم اے ہمیشہ سے ہی تمام ہیلتھ پروفیشنلز کے جائز حقوق کی علمبردار رہی ہے۔ انہوں نے ہڑتال کی کامیابی پر خاص طور پر ڈاکٹر مقصود زاہدصدر الیکٹ پی ایم اے پنجاب اور ان کے ساتھیوں کو مبارکباد پیش کی۔
ڈاکٹر واجدعلی نے حکومت کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت ہیلتھ پروفیشنلز کے جسم پر باڈی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف طبی عملے کے وقار اور خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ مریضوں کی نجی زندگی، خاص طور پر زنانہ وارڈز اور گائناکالوجی کے شعبوں میں زیر علاج خواتین مریضوں کی حساس رازداری کے لیے ایک شدید خطرہ ہے۔ مریض اور ڈاکٹر کے درمیان اعتماد اور رازداری علاج کا بنیادی ستون ہے۔ اس قسم کی نگرانی سے یہ مقدس رشتہ مجروح ہوگا، خواتین مریض علاج کروانے سے گریز کریں گی، جس کے طبی نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر واجدعلی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس غیر دانشمندانہ فیصلے پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ نگرانی کا یہ طریقہ کار ناقابل قبول ہے۔ ہم مریضوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کے حامی ہیں، لیکن ایسے اقدام کے نہیں جو ایک بنیادی انسانی حق یعنی رازداری کو پامال کرے اور علاج معالجے کے پورے عمل کو مشکوک بنا دے۔
ڈاکٹر واجد علی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ وہ نجی و سرکاری دونوں شعبوں میں صحت کارکنوں کے حقوق کے تحفظ، مریضوں کی رازداری اور پیشے سے وابستہ عزت و وقار کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *