تحریر- نظام الدین
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے بادل گہرے ہوئے، تو عین ان ہی دونوں میں امریکی خلائی گاڑی چاند کے مدار کا چکر لگا کر زمین پر واپس آگئی اور پھر اچانک جنگی جنون کی تپش ٹھنڈی پڑ گئی؟ ایسا ہی ایک واقعہ سرد جنگ کے دوران پیش آیا, جب امریکہ نے 16 جولائی 1969 کو چاند پرپہلا مشن روانہ کیا تو چاند ہماری رومانوی داستانوں، اورافسانوں سے بالکل مختلف نکلا۔ وہاں نہ کوئی چرخہ کاتتی بڑھیا تھی نہ ہی جن پریوں کا بسیرا۔ 20 جولائی وہ تاریخی دن تھا جب نیل آرمسٹرانگ نے چاند پر پہلا انسانی قدم رکھا اور ان کے 20 منٹ بعد بزایلڈرن اس سنگ میل تک پہنچے، مجھے بچپن ہی سے چاند، ستارے اور وسعتِ افلاک اپنی جانب کھینچتے تھے۔ میں گھنٹوں آسمان کو تکتا، سائنسی و فلکیاتی کتابوں میں گم رہتا اور نظامِ شمسی کے اسرار سمجھنے کی کوشش کرتا۔اگرچہ میں جانتا تھا کہ خلا باز نہیں بن سکتا، مگر ان کے سفرناموں کے ذریعے ان کے تجربات کو محسوس کرنے کی کوشش ضرور کرتا اسی شوق کی بنیاد پر میں نے ناسا کے ‘آرٹیمس 2مشن کا گہرا مطالعہ کیا۔ جو تقریباً4.1 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والا 10روزہ مشن چاند کے قریب ترین جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اگرچہ اس مرحلے پر چاند کی سطح پر اترنا شامل نہیں تھا۔اس مشن کے شرکاء ریڈ وائزمین، کرسٹینا کوچ، وکٹر گلوور اور جیریمی ہینسن، نے نہ صرف مدار کا چکر لگایا بلکہ زمین کے ‘غروب’ہونے کے وہ تاریخی مناظر بھی قید کیے جو انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ اس مشن نے زمین سے 2 لاکھ 52 ہزار 756 میل دوری پر پہنچ کر طویل ترین فاصلے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ لیکن ان تمام سائنسی تفصیلات سے ہٹ کر حقیقت یہ ہے اس مشن کے گرد کچھ ایسے سوالات” کھڑے ہوئے جنہوں نے اسے مشکوک بنا دیا ہے۔ سوال” وہ دروازہ ہے جس کے بغیر شعور کو منزل نہیں ملتی۔ جب عقل کے دریچے بند ہوتے ہیں تو علم محدود ہو جاتا ہے، اور جب سوال” اٹھتے ہیں تو سوچ کی پرواز وسیع ہو جاتی ہے۔ سوال” کوئی جرم نہیں، بلکہ اندھی تقلید سے نجات کا پہلا قدم ہے۔
جس وقت دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور بارود کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پر جمی تھیں، پسِ پردہ ایک ایسی کہانی جنم لے رہی تھی جو عام فہم سے بالاتر تھی کیا یہ ممکن ہے؟ امریکا کی کئی دہائیوں سائنسی محنت کے نتیجے میں نیل آرمسٹرانگ چاند سے صرف مٹی اور پتھر لائے تھے، یا ‘کچھ اور’ بھی ساتھ تھا؟ کئی دہائیوں سے یہ افواہ گردش میں رہیں کہ اپالو مشنز کا اصل مقصد محض تحقیق تھا؟ کہا جاتا ہے کہ چاند سے ایک ایسی مخلوق زمین پر لائی گئی جو زمین کے ماحول سے ہم آہنگ نہ تھی، جسے برسوں ایک خفیہ تنصیب میں رکھ کر اس کی زبان اور رابطے کے طریقوں کو سمجھا گیا۔ اب، پچاس سال بعد، شاید اسے واپس بھیجنے کا وقت آ گیا تھا۔ سال 2026 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آئے، تو ان کی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے ان کی میز پر ایک ایسی فائل رکھی گئی جو دہائیوں سے ‘ٹاپ سیکرٹ’ تھی۔ یہ فائل کسی زمینی دشمن کی نہیں بلکہ اس ‘قمری مہمان’ کی تھی جو نصف صدی سے امریکی زیرِ نگرانی تھا۔ صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایک خفیہ مشن تشکیل دیا جس کا نام ‘دی ریٹرن’ رکھا گیا۔ مقصد انتہائی حساس تھا: اس مخلوق کو واپس چاند کے مدار تک پہنچانا۔
سیاسی مبصرین حیران ہیں کہ اچانک ایران کے ساتھ جنگی ماحول کیوں گرم ہوا؟ اگر ان کڑیوں کو جوڑیں تو ایک عجیب تصویر ابھرتی ہے۔ جب عالمی میڈیا اور انٹیلی جنس ایجنسیاں خلیج فارس میں بارود کی بو سونگھ رہی تھیں، عین اسی وقت کسی دور افتادہ صحرا سے اس خلائی مخلوق کو خاموشی سے آرٹیمس 2 کے ذریعے روانہ کر دیا گیا۔ کیا ایران کے ساتھ یہ تنازع محض ایک ‘اسکرین سیور’ تھا؟ کیا یہ جنگی ڈرامہ اس لیے رچایا گیا تاکہ دنیا کی نظریں زمین کی آگ میں الجھی رہیں اور آسمان پر ہونے والی نقل و حمل پوشیدہ رہے؟
سچ کیا ہے؟ یہ شاید کبھی عام آدمی کے سامنے نہ
آسکے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے جب کبھی زمین پر کوئی بڑا ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے، تو پسِ پردہ اس سے بھی بڑا کوئی کھیل کھیلا جا رہا ہوتا ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں حقیقت فکشن سے کہیں زیادہ سنسنی خیز ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا “اسپیس فورس” کا قیام اور ان کے مبہم بیانات اس پراسراریت کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ جون 2020 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے
‘روزوے واقعے’کے بارے میں دلچسپ انکشافات کا اشارہ دیا تھا۔ اسی طرح اسرائیل کے سابق خلائی سیکیورٹی چیف “ہیم ایشد” کا یہ دعویٰ کہ ٹرمپ خلائی مخلوق کے وجود سے واقف ہیں اور وہ اس کا انکشاف کرنے والے تھے کہ ‘گیلیکٹک فیڈریشن’ نے انہیں روک دیا تاکہ انسانوں میں خوف نہ پھیلے، بہر حال،
امریکہ کی جانب چاند پر تحقیق اور انسان بھیجنے کا سفر محض چند سالوں کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی سائنسی محنت کا نتیجہ ہے، قرآنِ پاک کی سورۃ الشوریٰ (آیت 29) میں ارشاد ہے,”اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور ان میں پھیلائی ہوئی مخلوقات ہیں، وہ جب چاہے انہیں جمع کرنے پر قادر ہے۔”کچھ مفسرین کے نزدیک یہ آیت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس کائنات کی وسعتوں میں زمین کے علاوہ بھی زندگی اور مخلوقات موجود ہو سکتی ہیں۔ شاید ہم خلا میں اکیلے نہیں ہیں،اور ہوسکتا ہے حال ہی میں ہم نے اپنے ایک پراسرار پڑوسی کو الوداع کہا ہے۔اور یہ وہ سوال” ہے، کہ حقیقت اور مفروضے کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے؟ تاریخ، سائنس اور عقیدہ یہ تینوں انسانی سوچ کو مختلف سمتوں میں لے جاتے ہیں۔ لیکن تحقیق کا راستہ ہمیشہ سوال” سے شروع ہوتا ہے، اور سوال” ہی انسان کو علم کی طرف لے جاتا ہے۔ جس سے پس پردہ حقائق سامنے آتے ہیں ،