اگر صحافت آزاد نہ رہے ، تو سچ قید ہو جاتا ہے ۔۔۔

3 مئی کا دن ہمیں ایک گہری حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے۔۔۔صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ سچ کی حفاظت کا ایک مقدس فریضہ ہے۔ اگر صحافت آزاد نہ رہے تو سچ قید ہو جاتا ہے، اور جب سچ قید جائے تو معاشرہ اندھیروں میں قید (ڈوب) ہو جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر آج کے یومِ آزادیِ صحافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آج کے دور میں صحافت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، تو دوسری طرف جھوٹی خبروں، پروپیگنڈے اور مفاداتی رپورٹنگ نے سچ کو دھندلا دیا ہے۔ ایسے میں صحافی کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اب صرف خبر دینا کافی نہیں، بلکہ سچ کی پہچان اور اس کی درست ترسیل اصل ذمہ داری ہے۔
آزادیِ صحافت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بات بغیر تحقیق کے نشر کر دی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحافی کسی دباؤ، خوف یا لالچ کے بغیر حقائق بیان کر سکے۔ بدقسمتی سے آج کئی صحافی مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔۔۔سیاسی، معاشی اور سماجی۔ یہی دباؤ سچ کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اگر ہم اسلامی اصولوں کی بات کریں تو ہمیں واضح رہنمائی ملتی ہے کہ خبر دینے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ دیانت داری، انصاف اور سچائی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط صحافت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی نہ صرف سچ بولتا ہے بلکہ اس بات کا بھی خیال رکھتا ہے کہ اس کی خبر سے کسی کی عزت مجروح نہ ہو اور معاشرے میں فساد نہ پھیلے۔
دوسری جانب جدید دنیاوی صحافت میں اکثر اوقات سنسنی، ریٹنگ اور فوری شہرت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ “بریکنگ نیوز” کی دوڑ میں تحقیق اور تصدیق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ عوام کے اعتماد میں کمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ جب میڈیا پر اعتماد ختم ہو جائے تو معاشرہ افواہوں اور گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صحافت کو اس کی اصل روح کی طرف واپس لے جائیں۔۔۔جہاں سچ سب سے اہم ہو، جہاں خبر ذمہ داری کے ساتھ دی جائے، اور جہاں عوامی مفاد کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہو۔ ایک آزاد مگر ذمہ دار صحافت ہی ایک روشن اور باشعور معاشرے کی ضمانت بن سکتی ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ اگر ہم نے صحافت کی آزادی اور سچائی کو برقرار نہ رکھا تو ہم صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ اپنی اجتماعی بصیرت کھو بیٹھیں گے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایسی صحافت کو فروغ دیں جو ایماندار ہو، باخبر ہو اور واقعی عوام کی ترجمان ہو۔۔۔کیونکہ سچ ہی روشنی ہے، اور روشنی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *