مسیحا زندہ تھا تو کسی نے نہ پوچھا… مر گیا تو خبر بن گیا۔۔۔

تحریر: محمد منصور ممتاز

ہسپتال… وہ جگہ جہاں زندگی کو نئی سانس دی جاتی ہے، جہاں امید کی شمع جلتی ہے، جہاں ہر لمحہ موت سے جنگ لڑی جاتی ہے۔
مگر جب اسی ہسپتال کی پارکنگ سے ایک ڈاکٹر کی لاش برآمد ہو… تو یہ صرف ایک خبر نہیں رہتی، بلکہ ایک سوال بن جاتی ہے — ایک ایسا سوال جو پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔
لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹر احمد لطیف کی موت بظاہر ایک واقعہ ہے، مگر درحقیقت یہ ایک داستان ہے… ایک خاموش چیخ، جو ہم سننا ہی نہیں چاہتے۔
چار دن… جی ہاں، چار دن تک ایک ڈاکٹر کی لاش اس کی اپنی گاڑی میں موجود رہی، اور کسی کو خبر نہ ہو سکی۔
یہ چار دن صرف وقت کا گزرنا نہیں… یہ ہمارے نظام، ہماری ترجیحات اور ہمارے رویوں کی ناکامی کا اعلان ہیں۔
کہتے ہیں دروازہ اندر سے بند تھا، قتل کے کوئی شواہد نہیں ملے، اور شاید اوور ڈوز اس کی موت کی وجہ بنی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر — جو دوسروں کی زندگی بچانے کی قسم کھاتا ہے — وہ خود اس نہج تک کیسے پہنچ جاتا ہے؟
کیا یہ صرف ایک فرد کی کمزوری تھی؟
یا پھر یہ ہمارے معاشرے کا وہ دباؤ ہے جو آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے؟
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ڈاکٹرز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر حال میں مضبوط رہیں، ہر درد برداشت کریں، ہر مشکل میں مسکرائیں۔
مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ان کے دل میں کیا چل رہا ہے… ان کے ذہن پر کیا بوجھ ہے… اور ان کی زندگی کن آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔
ڈاکٹر احمد لطیف کی موت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم نے اپنے مسیحاؤں کو تنہا تو نہیں چھوڑ دیا؟
ایک اور پہلو بھی ہے…
ورثا کا قانونی کارروائی سے گریز… پوسٹ مارٹم سے انکار…
یہ خاموشی بھی بہت کچھ کہتی ہے۔
یہ خاموشی شاید درد کی ہے، شاید بدنامی کے خوف کی… یا شاید ایک ایسے سچ کی، جسے سامنے لانا کوئی نہیں چاہتا۔
یہ واقعہ ہمیں ایک تلخ حقیقت دکھاتا ہے —
کہ ہم صرف زندہ انسانوں کو نہیں، بلکہ ان کے مسائل کو بھی نظر انداز کر دیتے ہیں… یہاں تک کہ وہ مسائل موت بن کر سامنے آ جائیں۔
ڈاکٹر احمد لطیف اب اس دنیا میں نہیں…
مگر ان کی موت ایک پیغام چھوڑ گئی ہے —
کہ ہمیں اپنے معاشرے میں ذہنی دباؤ، تنہائی اور نشے جیسے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
ورنہ کل کسی اور ہسپتال کی پارکنگ میں…
کسی اور سفید کوٹ کی خاموش لاش ہمارا انتظار کر رہی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *