آپریشن تھیٹر؛ جہاں زندگی اور موت ساتھ ساتھ چلتے ہیں، وہاں لائٹ چلی گئی۔۔۔

تحریر: محمد منصور ممتاز

ایمرجنسی تھیٹر کسی عام وارڈ کی طرح نہیں ہوتا۔ یہاں لائف سپورٹ سسٹمز، اینستھیزیا مشینیں، مانیٹرز اور سرجیکل آلات مسلسل بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اس شعبے کے لیے بیک اپ پاور سسٹمز کو لازمی قرار دیا جاتا ہے تاکہ ایک لمحے کے لیے بھی نظام متاثر نہ ہو۔
اگر واقعی سروسز ہسپتال کے ایمرجنسی آپریشن تھیٹر میں بجلی بند ہو گئی اور موبائل لائٹ پر آپریشن جاری رہا، تو یہ صرف ایک تکنیکی خرابی نہیں، بلکہ ایک نظامی ناکامی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک ہسپتال کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے صحت کے نظام کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔
ایسے حالات میں ڈاکٹرز نے جہاں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری نبھائی، وہاں انسانی ہمدردی اور عزم کی بھی مثال قائم کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسی صورتحال پیدا ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ایک لمحے کی تاخیر، ایک لمحے کی دھندلا روشنی، یا ایک سایہ بھی سرجری کے نتائج کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ آپریشن تھیٹر میں روشنی صرف سہولت نہیں، بلکہ درست تشخیص اور محفوظ سرجری کی بنیاد ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا اس واقعے کا فوری نوٹس لینا اور محکمہ صحت سے رپورٹ طلب کرنا ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب اس واقعے کو مستقل اصلاحات کی تحریک کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ہسپتالوں میں بیک اپ سسٹمز کی جانچ، ان کی باقاعدہ مانیٹرنگ، اور کسی بھی غفلت پر واضح احتساب، یہ سب فوری اقدامات کا حصہ ہونے چاہئیں۔
کیونکہ ہسپتال میں داخل ہونے والا ہر مریض صرف علاج کے لیے نہیں آتا، بلکہ اعتماد اور امید کے ساتھ بھی آتا ہے۔ اگر وہی جگہ اندھیرے میں ڈوب جائے، تو روشنی کے ساتھ ساتھ یہ اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے، اور نظام پر شک کے بادل چھا جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *