تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
بلوچستان کی سیاست ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ کی حامل رہی ہے۔ اس سرزمین نے بے شمار قابل، مدبر اور باصلاحیت سیاستدان پیدا کیے، جنہوں نے اپنے اپنے ادوار میں عوامی خدمت اور قیادت کا حق ادا کیا۔ مگر تاریخ کے اوراق میں کچھ نام ایسے بھی ثبت ہوتے ہیں جو محض عہدوں یا خطابات سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، اخلاص اور خدمتِ خلق کی بدولت عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ انہی درخشاں ناموں میں کا شمار ہوتا ہے۔
بلوچستان کے عوام کی جانب سے انہیں “خادمِ عوام”، “خیراندیش”، “غریب پرور” اور “محسنِ جمعیت” جیسے القابات سے نوازا جانا محض رسمی یا روایتی عمل نہیں، بلکہ یہ ان کی طویل عوامی خدمات، بے لوث کردار اور انسان دوستی کا عملی اعتراف ہے۔ ایک دینی مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے اس رہنما نے عملی سیاست میں قدم رکھتے ہی جس خلوص، دیانت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، وہ انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز بناتا ہے۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی سیاست کا بنیادی محور عوامی خدمت ہے۔ وہ بلا تفریق ہر طبقے کے لوگوں کے مسائل سنتے ہیں اور ان کے حل کے لیے بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ ان کے دروازے پر نہ صرف ان کی جماعت کے کارکنان بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی امید لے کر آتے ہیں، اور مایوس نہیں لوٹتے۔ یہی وسعتِ ظرف اور فراخ دلی ایک حقیقی عوامی رہنما کی پہچان ہوتی ہے۔
ان کے دورِ وزارت کو اگر ترقیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں کیڈٹ کالجز، میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے قیام میں ان کی کاوشیں نمایاں ہیں۔ دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر، ڈیمز اور ٹیوب ویلز جیسے منصوبے نہ صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی کا ذریعہ بنے بلکہ مقامی معیشت کو بھی تقویت ملی۔
چونکہ ، ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا، غریب مریضوں کے علاج کو سرکاری سطح پر ممکن بنانا، اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے انتظامیہ سے مؤثر رابطہ رکھنا ان کی عملی سیاست کا اہم حصہ رہا ہے۔ اغواء شدہ افراد یا املاک کی بازیابی جیسے حساس معاملات میں بھی ان کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے، جو ان کی عوامی وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا اخلاقی رویہ بھی ہے۔ وہ عوام سے نہایت شفقت، احترام اور خلوص کے ساتھ پیش آتے ہیں، اور ہر فرد کو عزت دینے کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں محض ایک سیاستدان نہیں بلکہ اپنے خاندان کے فرد کی طرح سمجھتے ہیں۔
جب بھی جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں حکومتی اتحاد کا حصہ بنی، تو حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے مالی دیانتداری اور شفافیت کو یقینی بنایا، اور صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی قیادت میں نہ صرف وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا گیا بلکہ وفاق سے مزید بجٹ کے حصول کے لیے بھی مؤثر جدوجہد کی گئی۔
یہی وہ اوصاف ہیں—خدمت، دیانت، اخلاص، اور عوام دوستی جو حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کو دیگر سیاستدانوں سے منفرد بناتے ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں بلوچستان کے عوام کے دلوں میں ایک باوقار مقام عطا کرتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں محبت و عقیدت سے ان اعلیٰ القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
بلاشبہ، ایسی شخصیات ہی کسی بھی معاشرے کا حقیقی سرمایہ ہوتی ہیں، جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر عوام کی فلاح و بہبود کو اپنا مقصدِ حیات بناتی ہیں۔