ٹھٹہ ڈسٹرکٹ رپوٹر ایم اعجاز چانڈیو مھرانوی سے
گھارو کے قریب واقع تاریخی مقام بھنبھور اور اس کے اطراف کے کئی دیہات میں ایک نجی فیکٹری “ڈیری لینڈ” کے مبینہ زہریلے پانی نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافے کے باعث مختلف بیماریاں پھیلنے لگی ہیں، جبکہ زہریلا پانی سمندر میں چھوڑے جانے سے مچھلیوں کی نسل کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ شہریوں نے متعلقہ ماحولیاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
علاقے میں نکاسی آب کا ناقص نظام مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس کے باعث گندا اور بدبودار پانی گھروں اور گلیوں میں جمع ہو رہا ہے۔ اس صورتحال سے نہ صرف دیہاتی شدید پریشان ہیں بلکہ تاریخی ورثہ بھنبھور کے قدیم آثار کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق آلودہ پانی سے تعفن پھیل رہا ہے، جس کے نتیجے میں بچے، بزرگ اور سیاح مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ متعدد بار احتجاج کے باوجود نکاسی آب کا نظام بہتر نہ ہو سکا، جس سے عوامی حلقوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔
متاثرہ دیہاتیوں اور بھنبھور انتظامیہ نے اعلیٰ حکام، حکومتِ سندھ اور محکمہ آثارِ قدیمہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں، نجی فیکٹریوں کو زہریلے پانی کے اخراج سے روکا جائے، اور مؤثر نکاسی آب کا نظام قائم کر کے تاریخی مقام بھنبھور کو تباہی اور ماحولیاتی آلودگی سے بچایا جائے۔
زہریلے پانی نے مقامی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے