گورنمنٹ مین پرائمری اسکول گھارو میں ایک بڑے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا

ٹھٹہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر: ایم اعجاز چانڈیو مہرانوی)
ٹھٹہ ضلع کے شہر گھارو میں سماجی خدمت کی ایک شاندار مثال قائم کرتے ہوئے گر سنگت پیسومل دیوجاڻي اور واپاری ایسوسی ایشن گھارو کے باہمی تعاون سے گورنمنٹ مین پرائمری اسکول گھارو میں ایک بڑے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ کیمپ میں آغا خان اسپتال کے ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم نے شرکت کی اور علاقے کے مستحق مریضوں کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
میڈیکل کیمپ کے دوران تقریباً 450 مریضوں کو مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ خاص طور پر بچوں میں پائی جانے والی بیماریوں جیسے بخار، کھانسی، جلدی امراض اور دیگر موسمی بیماریوں کا معائنہ کرکے انہیں بروقت ادویات دی گئیں۔ ڈاکٹرز نے نہ صرف علاج کیا بلکہ مریضوں کو مزید بہتر علاج اور رہنمائی فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں میں صحت کے حوالے سے آگاہی کی شدید کمی ہے۔ صفائی ستھرائی کے بنیادی اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں، اس لیے عوام میں شعور اجاگر کرنا بے حد ضروری ہے۔
کیمپ کے اختتام پر ایک مختصر تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں مہمانِ خصوصی امردیپ، ڈاکٹر پی ڈی کیلاڻي، ڈاکٹر ہریش کیلاڻي، بھونداس ٹکیاڻي، مختیار لاشاری، مولوی قاسم چانڈیو، عبدالحمید عمراڻي، اصغر جوکھیو سمیت دیگر معزز شخصیات نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ایسے فلاحی اقدامات نہ صرف انسانیت کی خدمت ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا باعث بھی بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گھارو اور اس کے نواحی علاقوں میں بڑی تعداد میں غریب اور مزدور طبقہ آباد ہے جو مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے، ایسے میں فری میڈیکل کیمپس ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ انہوں نے آغا خان اسپتال کے ڈاکٹرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ عام طور پر بڑی فیس کے عوض خدمات انجام دیتے ہیں، مگر یہاں آکر انہوں نے بلا معاوضہ عوام کی خدمت کر کے ایک بہترین مثال قائم کی ہے۔
تقریب کے اختتام پر میزبان پون مل، ڈالو مل اور دیگر منتظمین کی جانب سے مہمانوں کو سندھ کی ثقافتی روایات کے مطابق اجرک اور لنگیاں پیش کی گئیں۔
علاقہ مکینوں نے اس اقدام کو بے حد سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں بھی اس قسم کے میڈیکل کیمپس کا انعقاد جاری رکھا جائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *