مقامِ ابراہیم حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یادگار، مفتی بہادر علی رضوی
لاہور(محمد منصور ممتاز سے)
مفتی بہادر علی رضوی نے کہا ہے کہ بیت اللہ شریف اور مقامِ ابراہیم صرف مقدس مقامات نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان، قربانی، اطاعت اور اتحاد کی عظیم علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید کے مطابق بیت اللہ شریف زمین پر اللہ تعالیٰ کا پہلا گھر ہے جسے تمام انسانیت کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ تعمیر کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام جس پتھر پر کھڑے ہو کر دیواریں بلند کرتے رہے وہی آج “مقامِ ابراہیم” کہلاتا ہے۔
مقامِ ابراہیم اللہ تعالیٰ کی نشانی
مفتی بہادر علی رضوی نے کہا کہ مقامِ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات آج بھی محفوظ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم مظہر ہیں۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان مقامِ ابراہیم کے قریب نماز ادا کرنا باعثِ سعادت سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مقام مسلمانوں کو استقامت، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جدوجہد کا درس دیتا ہے۔
حجرِ اسود کی تاریخی اہمیت
انہوں نے کہا کہ حجرِ اسود جنت سے لایا گیا مقدس پتھر ہے جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ شریف میں نصب فرمایا۔ بعد ازاں قریش کی جانب سے تعمیرِ کعبہ کے موقع پر حجرِ اسود نصب کرنے پر اختلاف پیدا ہوا تو حضرت محمد ﷺ نے اپنی حکمت اور بصیرت سے معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرایا۔
بیت اللہ شریف مرکزِ اخوت و مساوات
مفتی بہادر علی رضوی نے مزید کہا کہ مختلف ادوار میں خلفائے راشدین، عباسی و عثمانی حکمرانوں اور سعودی حکومت نے مسجد الحرام کی توسیع اور بیت اللہ شریف کے تحفظ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی لباس میں، ایک ہی رب کے حضور اور ایک ہی مرکز کے گرد جمع ہو کر اتحادِ امت اور مساوات کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بیت اللہ شریف اور مقامِ ابراہیم کا پیغام امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، ایمان اور قربانی کی نئی روح پیدا کر سکتا ہے۔
