غالب کی طرح حیران ہوا رونے یا خود کو پیٹنے میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرپارہا۔ گزشتہ جمعہ کی صبح سے عالمی جرائد میں چھپے بے تحاشہ مضامین پڑھے۔ امتحان کی تیاری کرتے کسی طالب علم کی طرح میرے مطالعے کا واحد مقصد اتوار کی صبح اٹھ کر کالموں کے ایک سلسلے کا آغاز تھا جو ایران-امریکہ کشیدگی کو تاریخی تناظر میں رکھتے ہوئے مستقبل کے امکانات کا جائزہ لے۔ ہفتے کی رات سونے سے قبل مگر موبائل دیکھا تو وہاں الطاف حسن قریشی صاحب کے انتقال کی خبر نے جی کو اداس کردیا۔ اتوار کی صبح اٹھتے ہی لہٰذا ان سے وابستہ یادوں کے ذکر کومجبور ہوگیا۔
مرحوم سے میری ایک بار بھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی۔ ان کے نام اور کام سے البتہ سکول کے دنوں ہی سے آشنائی کا آغاز ہوگیا تھا۔ سکول کی تعلیم مکمل کرلی تو وطن عزیز دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم ہوگیا۔ نوجوانی کے خمار میں یہ قلم گھسیٹ کٹر “انقلابی” ہوگیا۔ الطاف حسن قریشی مرحوم میری نگاہ میں “امریکی سامراج” اوراس کے “مقامی گماشتوں” کے نمایاں ترین ایجنٹ شمار ہوئے۔ ان کی ادارت میں چھپا ماہنامہ اور ہفت روزہ “رجعت پسندی” کے دفاع اور فروغ کے “زہریلے نمائندے”۔ ان دو اشاعتی اداروں نے عوام کی جو “ذہن سازی” کی اس کی کل وقتی صحافت اختیار کرنے کے بعد مسلسل مذمت کرتا رہا۔ جب بھی موقعہ ملتا قریشی صاحب کی ذات اور تازہ ترین تحریروں پر طنزیہ فقرے اچھالنے سے باز نہ رہتا۔
پیر کی صبح چھپے کالم میں ان سے “نظریاتی دوری” کے بھرپور اظہار کے باوجود یہ لکھنے کو مجبور ہوا کہ عمران حکومت کے خلاف 2022ء میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے قبل مرحوم نے ازخود مجھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ ان کالموں میں تواتر سے بیان ہوئی اس رائے سے اتفاق کیا کہ عمران حکومت کو اس کی آئینی مدت مکمل کرنے دی جائے۔ اس رائے کا اظہار میں دل پر پتھر رکھتے ہوئے دہراتارہا کیونکہ ذاتی طورپر رزق کمانے کے حوالے سے میرے لئے عمران حکومت کے برس بہت کڑے تھے۔ جی مگر نجانے کیوں “اصول پسند” ہوگیا اور میرا یہ رویہ اکثر دوستوں کو پسند نہ آیا۔
ذہنی خلفشار کے ان دنوں میں الطاف حسن قریشی کی جانب سے ازخود ہوئے رابطے نے مجھے حوصلہ بخشا۔ میری رائے سے اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر نہایت افسردہ آواز میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ پاکستان میں سیاسی ابتری اور عدم استحکام کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہاں “سیاست نہیں سازشیں” ہوتی ہیں۔ مارچ 2022ء میں ہوئی اس گفتگو کے بعد الطاف صاحب مرحوم نے مجھے ایک بار اس کالم کی اشاعت میں آئے تین دنوں کے وقفے کی وجہ جاننے کو فون کیا۔ ان کے علاوہ دو یا تین بار فون کے ذریعے اپنی مرتب کردہ کتابیں بھجوانے کے لئے میرے گھر کا پتہ معلوم کیا۔
کالم چھپ گیا تو بے شمار “روشن خیال اور ترقی پسند” دانشوروں کا ایک گروہ انبوہ کی صورت میرے پیچھے پڑگیا۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم اورواٹس ایپ پیغامات کے ذریعے یہ تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ میں گنہگار الطاف قریشی صاحب کے”گناہ دھونے”کی کاوشوں میں مصروف ہوں۔ نام نہاد حق اور باطل کے مابین تفریق بھلاکر آنے والی نسلوں کو یہ بتانے کی جرات نہیں دکھاپارہا کہ الطاف مرحوم جیسے لکھاریوں نے قوم کو “گمراہ اور بے خبر” رکھنے میں کتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔
روشن خیال اور ترقی پسند مشہور ہوئے افراد کا یہ گروہ جس انداز میں مجھ پر حملہ آور ہوا اس نے چند مساجد کے منبروں پر قابض ان متعصب ملائوں کی یاد دلادی جو اپنے پیروکاروں کو مسلکی مخالفین کے خلاف بھڑکاتے ہیں۔ میری بدقسمتی کہ 1969ء سے کئی دہائیوں تک میں “روشن خیال اور ترقی پسند” مشہور ہوئے بے شمار افراد سے مسلسل رابطے میں رہا ہوں۔ ان میں سے چند ایک کی “اصول پسندی” بھی نہایت نازک مکامات پر بے نقاب ہوتے دیکھی ہے۔ غیبت گوئی لیکن میرا شیوہ نہیں۔ بلوغت میں قدم رکھتے ہی محض لکھنے سے رزق کمایا ہے۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے باوجود ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھنا لازمی ہے۔ اس کے علاوہ پیر سے جمعرات تک ٹی وی شو بھی کرتا ہوں۔ سفید پوشی کا بھرم ر کھنے کے لئے آخری عمر میں بھی مزدوری کی مشقت سے سیکھا ہے تو فقط اتنا کہ ہر فرد خواہ وہ کتنا ہی اصول پسند کیوں نہ ہو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر لچک دکھانے کو مجبور ہوجاتا ہے۔
الطاف حسن مرحوم اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے ورثاء حکمران اشرافیہ کے نمائندے نہیں۔ مرحوم کے ساتھ وابستہ تلخ باتوں کے ذکرکے بعد ان کے ذاتی رویہ کی تحسین کے لئے جو الفاظ لکھے وہ میری نوکری بچانے یا روزگار کے نئے دروازے کھولنے میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتے۔ اس کے باوجود “روشن خیال اور ترقی پسند” میری ملامت کو تلے بیٹھے ہیں۔ اپنی نفرت اور کدورت کو عیاں کرتے ہوئے بھول رہے ہیں کہ اپنی تحریروں میں وہ اکثر معاشرے میں “عدم برداشت” کا رونا روتے ہیں۔ ڈرامہ رچاتے ہیں کہ ہر مکتبہ فکر کو اپنے خیالات کے اظہار کی آزادی میسر ہونا چاہیے۔
دورِ حاضر میں خود کو “لبرل ا ور ترقی پسند” ثابت کرنے کے لئے لازمی ہے سعادت حسن منٹو کو اردو ادب کا توانا تر ادیب تسلیم کیا جائے۔ میں “نظریاتی” نہیں بلکہ فطری طورپر منٹو کی لکھی پہلی تحریر پڑھنے کے بعد سے ان کا مداح ہوں۔ ان کی ذاتی زندگی بہت کٹھن تھی۔ زود رنجی، اعصابی تنائو اور معاشی مشکلات کے باعث وقت سے کہیں پہلے وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ الطاف حسن قریشی مرحوم کی ستائش میں لکھے میرے چند فقروں کی وجہ سے طیش میں آئے “روشن خیال اور ترقی پسند” مشہور ہوئے گروہ کو غالباََ یاد نہ رہا ہوگا کہ قیام پاکستان کے بعد “انجمن ترقی پسند مصنفین” نے سعادت حسن منٹو کو “فحش نگاری” کا مرتکب ٹھہراتے ہوئے اپنی صفوں سے باہر نکال دیا تھا۔ اسی باعث حکومتِ وقت نے جب بدنصیب منٹو پر فحاشی کے الزام میں مقدمہ چلایا تو ان کے دفاع میں ایک بھی “روشن خیال یا ترقی پسند” کھڑا نہ ہوا۔
“ترقی پسندی” کے سب سے بڑے نمائندے -فیض احمد فیض بھی اپنے قبیلے کے دبائو میں آکر عدالت میں یہ بیان دینے کو مجبور ہوئے کہ منٹو کے افسانے میں چند سطریں فحش شمار کی جاسکتی ہیں۔ فیض صاحب کی “نظریاتی مجبوریوں ” کے برعکس ان دنوں عابد علی عابد صاحب بھی تھے۔ شاعر ونقاد تھے۔ رپالی سنگھ کالج میں استاد بھی تھے۔ انہیں “رجعت پسندی” کا نمائندہ تصور کیا جاتا تھا۔ عابد صاحب نے مگر عدالت میں کھڑے ہوکر برملا بیان کیا کہ وہ منٹو کی لکھی تحریر اپنی بیٹی کو پڑھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ ایک “رجعت پسند” پروفیسر کا یہ بیان منٹو کا موثر ترین دفاع ثابت ہوا۔ میرے لتے لینے والے “روشن خیال اور ترقی پسندوں ” کا گروہ مگر عابد صاحب کے نام اور کردار سے بھی آگاہ نہیں ہوگا۔ ان کی “روشن خیالی” نفرت وکدورت سے مغلوب ہوئی اب خطرہِ جان بن رہی ہے۔
