شہری سندھ کا مستقبل

تحریر؛ نعمان احمد دہلوی
پاکستان کی آئینی تاریخ میں ترامیم ہمیشہ سے تبدیلی کے سنگ میل ثابت ہوئی ہیں۔ اٹھارویں ترمیم نے وفاقی اور صوبائی اختیارات کی تقسیم میں ایک نئی فصل کھولی تھی، مگر اب وقت آگیا ہے کہ مقامی سطح پر حقیقی طاقت کا انتقال ہو۔ سندھ کے شہری علاقوں، خصوصاً کراچی، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں کا دیرینہ مطالبہ—بلدیاتی اداروں کو آئینی تحفظ، مالی خودمختاری اور انتظامی اختیار—اب پورا ہونے جا رہا ہے۔ 28ویں آئینی ترمیم کی جانب پیش رفت اسی عزم کی عکاسی کرتی ہے جو نہ صرف شہری سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک سنگ بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
کراچی کی سیاسی جماعت نے یہ آواز اٹھائی تھی کہ آرٹیکل 140اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ شہری علاقوں میں آبادی کا دباؤ، بنیادی سہولیات کی کمی، صفائی، پانی، ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی جیسے مسائل صوبائی سطح پر حل نہیں ہو سکتے۔ کراچی جیسا میگا شہر، جو پاکستان کی معاشی رگ ہے، جب بلدیاتی سطح پر مفلوج رہتا ہے تو پورا ملک متاثر ہوتا ہے۔ اور یہ مطالبہ کراچی سنٹرڈ نہیں بلکہ قومی نوعیت کا ہے۔ شہری سندھ کے عوام نے دہائیوں سے محسوس کیا ہے کہ فیصلے دور بیٹھے کیے جاتے ہیں جبکہ مسائل محلے کی سطح کے ہیں۔ ۲۸ویں ترمیم اس خلا کو پر کرنے کا وعدہ رکھتی ہے۔
اس ترمیم کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ماضی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو وسائل دیے مگر مقامی حکومتوں کو نظر انداز کیا گیا۔ نتیجتاً صوبائی دارالحکومتوں میں طاقت مرتکز ہو گئی اور شہروں میں بدانتظامی بڑھتی گئی۔ سندھ میں شہری علاقوں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کراچی تنہا ہی چار کروڑ سے زائد لوگوں کا گھر ہے، جہاں روزمرہ مسائل—گندگی، ٹریفک، پانی کی قلت—شہری زندگی کو عذاب بنا رہے ہیں۔ اگر مقامی نمائندوں کو بجٹ، پالیسی سازی اور نفاذ کا حق مل جائے تو یہ مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل ہو سکتے ہیں۔ ۲۸ویں ترمیم اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جو بلدیاتی اداروں کو آئینی ضمانت دے گی اور انہیں صوبائی مداخلت سے آزاد کرے گی۔
یہ پیش رفت صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی بھی ہے۔ شہری سندھ کے عوام، جو مختلف نسلوں، زبانوں اور ثقافتوں کا امتزاج ہیں، طویل عرصے سے نمائندگی اور خودمختاری کے حق کی بات کرتے رہے ہیں۔ جب محلے کے مسائل محلے کے لوگ حل کریں گے تو وفاق اور صوبہ زیادہ بڑے چیلنجز—تعلیم، صحت، معاشی ترقی—پر توجہ دے سکیں گے۔ یہ وفاقیت کی حقیقی روح ہے: طاقت کا نیچے کی طرف بہاؤ۔
تاہم، اس راہ میں چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی جیسے سیاسی حلقوں میں سندھ کی تقسیم یا NFC ایوارڈ میں تبدیلی کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں۔ کچھ تجاویز میں نئے صوبوں کا ذکر بھی آیا ہے، مگر شہری سندھ کا بنیادی مطالبہ تقسیم نہیں بلکہ بااختیار بلدیاتی حکومت ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ 28ویں ترمیم کو اتفاق رائے سے منظور کروایا جائے تو یہ 18ویں ترمیم کی تکمیل ثابت ہو گی۔ قانون کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ممکن ہے مگر اس کے لیے وسیع اتفاق ضروری ہے۔
شہری سندھ کے لیے یہ لمحہ تاریخ ساز ہے۔ کراچی، جو ایک وقت میں ایشیا کا سب سے بڑا شہر شمار ہوتا تھا، آج بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں جدوجہد کر رہا ہے۔ بااختیار میئر اور بلدیاتی کونسلز اگر وسائل اور اختیار کے ساتھ کام کریں تو شہر کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ جیسے دیگر شہروں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ نوجوان نسل، تاجر برادری اور عام شہری سب اس تبدیلی کے منتظر ہیں۔ معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، سرمایہ کاری آئے گی اور شہری زندگی قابل رہنے والی بنے گی۔
یہ ترمیم قومی اتحاد کی بھی علامت بن سکتی ہے۔ پاکستان جیسے متنوع ملک میں مقامی خودمختاری ہی وحدت کو مضبوط کر سکتی ہے۔ جب ہر شہری محسوس کرے گا کہ اس کا ووٹ محلے کی بہتری میں تبدیل ہو رہا ہے تو سیاسی alienations ختم ہوں گے۔ یہ وژن صرف سندھ تک محدود نہیں۔ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے شہری علاقے بھی اس سے مستفید ہوں گے۔
البتہ کامیابی کا انحصار عمل درآمد پر ہے۔ ترمیم منظور ہونے کے بعد قانونی فریم ورک، وسائل کی تقسیم اور نگرانی کا موثر نظام قائم کرنا ہوگا۔ عدالتیں، سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اختیارات کا غلط استعمال نہ ہو۔ شہری سندھ کے عوام نے صبر کا مظاہرہ کیا ہے؛ اب انہیں حق ملنا چاہیے۔
28ویں ترمیم کی پیش رفت امید کی کرن ہے۔ یہ نہ صرف شہری سندھ کے دیرینہ مطالبے کو تسلیم کرتی ہے بلکہ پاکستان کو ایک جدید، وفاقی اور شہری دوست ریاست بنانے کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہوئی تو آنے والی نسلیں اسے ایک مثبت موڑ کے طور پر یاد رکھیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم آئین کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ طاقت کے ارتکاز کا۔ سندھ کے شہری علاقوں کا یہ مطالبہ اب قومی آواز بن چکا ہے—اور اسے پورا ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *