تحریر-نظام الدین
کوئی قوم کتنی بھی طاقت حاصل کر لے، اگر وہ احسان فراموش اور ظالم ہو جائے، اپنے محسنین کے عقائد، تہذیب، زبان اور بزرگوں کو نظر انداز کر دے، اور غلبہ حاصل کرتے ہی اپنے محسنین کے دشمنوں سے مل کر انہیں گالیاں دینا شروع کر دے، تو سمجھ لیجیے کہ اس کے غلبے کی عمر بہت مختصر ہے۔
میری ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ جب میں کسی بھی موضوع پر لکھوں تو محبت اور نفرت کے درمیان توازن برقرار رکھوں۔ مگر میں انسان ہوں، ایک کم “ستر برس” کی عمر کو پہنچ چکا ہوں، کہیں نہ کہیں بھٹک ہی جاتا ہوں۔ اس کے لیے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔
ابھی کچھ دن پہلے جب دو مسلم پڑوسی ممالک گتھم گتھا ہوئے تو ظاہر ہے کہ میں اپنے ملک کی طرف تھا۔ اور یہ طرف داری کسی مجبوری میں نہیں بلکہ مکمل یقین کے ساتھ تھی اور رہے گی۔ انسان اگر اپنوں کی طرف داری نہیں کرے گا تو وہ کسی کی بھی طرف داری نہیں کر پائے گا۔ تاہم اس طرف داری میں بھی عدل اور توازن کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔
ایسا نہیں کہ میں نے اس مسلم پڑوسی ملک (افغانستان) کو جاگتی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو یا اس کی تاریخ کا مطالعہ نہ کیا ہو۔ تاریخی مطالعہ تو مجھے حیران کر دیتا ہے۔ ایک طرف افغانستان ہے جس کی بطور ریاست تاریخ صدیوں پر محیط ہے؛ احمد شاہ ابدالی کی فتوحات سے لے کر “سلطنتوں کے قبرستان” ہونے کے تاثر تک۔ دوسری طرف پاکستان ہے جسے وجود میں آئے ابھی ایک صدی بھی مکمل نہیں ہوئی، اور جس کی شناخت ان قدیم تہذیبوں سے جڑی ہے جو اس کی سر زمین میں مدفون ہیں۔
لیکن جب میں ان دونوں مسلم پڑوسیوں کا موازنہ کرتا ہوں تو ایک تلخ سوال ابھرتا ہے: کیا محض “تاریخ کا بوجھ” اٹھانا ہی کافی ہے، یا بدلتی دنیا کے ساتھ قدم ملانا اصل کمال ہے؟ افغانستان نے پاکستان کے قیام کے پہلے دن سے ہی مخالفت کی بنیاد رکھی۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف واحد ووٹ سے لے کر باجوڑ پر حملوں تک، اور “الذوالفقار” جیسے گروہوں کی کابل میں سرپرستی سے لے کر سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی تک، کابل کی مختلف حکومتوں نے اسلام آباد کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ مگر اس “پاکستان دشمنی” کے جنون میں افغان قیادت یہ بھول گئی کہ سرحد کے اس پار کا ملک، جسے وہ ایک “عارضی ریاست” سمجھتے تھے، ان سے کہیں آگے نکل رہا تھا۔
پاکستان نے اپنے قیام کے چند ہی عشروں بعد وہ سنگِ میل عبور کیے جن کا افغانستان تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ ایک نومولود ریاست نے عالمی دباؤ کے باوجود ایٹمی صلاحیت حاصل کر کے دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ایک مضبوط دفاعی نظام اور فوج تیار کی، جس کا شمار دنیا کی نمایاں افواج میں ہوتا ہے۔ صنعت، تعلیم اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں بھی پاکستان نے وہ منزلیں طے کیں جو ایک فعال اور جدید ریاست کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ افغانستان، جو دنیا کی دوسری سپر پاور سوویت یونین کا ہمسایہ رہا، جس پر برطانیہ اور پھر امریکہ کا اثر رہا، وہ آج بھی ترقی کی دوڑ میں پیچھے کیوں ہے؟ کچھ ماہرین اسے پاکستان کی مداخلت یا “لینڈ لاکڈ” یعنی” سمندر تک رسائی نہ ہونے کا عذر پیش کرتے ہیں۔ مگر یہ دلائل مکمل حقیقت کی وضاحت نہیں کرتے۔ اگر سمندر تک رسائی ہی ترقی کی واحد ضمانت ہوتی تو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا جیسے ممالک آج دنیا کی خوشحال ریاستوں میں شمار نہ ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی محدودیت کو بصیرت اور بہتر حکمتِ عملی سے کم کیا جا سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے افغان قیادت نے اکثر اپنی توانائیاں تعمیر کے بجائے تخریب میں صرف کیں۔
پاکستان نے اپنے محدود وسائل کے باوجود افغانستان میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔ کابل میں “جناح ہسپتال” کی تعمیر، لوگر میں “نائب امین اللہ خان ہسپتال”، کابل میں”علامہ اقبال فیکلٹی” یونیورسٹی اور طورخم سے جلال آباد تک سڑک کی تعمیر جیسے اقدامات اس کی مثال ہیں، تاکہ افغان تجارت کو سہولت مل سکے۔ پاکستان نے بسا اوقات ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں بداعتمادی کی فضا برقرار رہی۔
افغانستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ اس کا داخلی سیاسی عدم استحکام، قبائلی تقسیم اور طویل خانہ جنگی بھی رہی ہے۔ جب پاکستان کے نوجوان جدید علوم اور ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہے تھے، افغانستان کئی دہائیوں تک جنگ اور عدم استحکام کا شکار رہا۔ افغانستان کی سرزمین معدنی وسائل سے مالا مال ہے، جن میں لیتھیم جیسے اہم ذخائر بھی شامل ہیں، مگر سیاسی استحکام اور مؤثر نظام کے بغیر یہ وسائل قوم کی تقدیر نہیں بدل سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ خطے کے تمام ممالک یہ تسلیم کریں کہ باہمی دشمنی کسی کے مفاد میں نہیں۔ ریاستیں عمر سے نہیں بلکہ عزم، تعلیم، سائنسی ترقی اور معاشی استحکام سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب تک توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف صرف ہوتی رہیں گی، خطہ ترقی کے بجائے تنازعات میں الجھا رہے گا۔
اس تمام تباہی اور کشمکش کے درمیان اگر امید کی کوئی کرن ہے تو وہ سازش نہیں بلکہ
“جیو اور جینے دو” ہی پائیدار راستہ ہے۔