اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد پاکستانی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں اور سپلائی کے حوالے سے ہنگامی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور رسد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تاہم ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فی الحال قلت کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) نے ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے نئے درآمدی ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔
حکومت نے سعودی عرب سے متبادل راستے سے تیل سپلائی کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ آئل ٹینکرز کی انشورنس لاگت میں اضافے کے پیش نظر آئل کمپنیوں کے لیے اضافی اخراجات پر غور کیا جا رہا ہے۔ رواں سال 8 ماہ کے ریکارڈ کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت چوکسی برقرار رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ توانائی کی بچت کے لیے “گھر سے کام” کی تجاویز بھی زیر غور ہیں، جنہیں مارچ میں تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ سیکٹر میں آزمایا جا سکتا ہے۔ ٹیلی کام اور آئی ٹی کمپنیوں میں ہفتے میں دو دن آن لائن کام کرنے کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایندھن کی ممکنہ قلت کے خدشے کے پیش نظر حکومت اضافی کارگو کا انتظام کر رہی ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی سفیر سے ملاقات کی اور یانبو پورٹ سے ایندھن کی فراہمی کی یقین دہانی حاصل کی۔ اس کے علاوہ فجیرہ پورٹ سے ADNOC کا ایندھن والا جہاز پاکستان لایا جائے گا۔
آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیراعظم کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ او ایم سیز نے مصنوعی قلت پیدا کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں، جنہیں روکا جائے۔ وزارت پٹرولیم کے مطابق، پاکستان کے پاس فی الحال 25 دن کا ایندھن ہے اور OMCs کو 20 دن کا سٹاک رکھنے پر پابندی ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کے پیش نظر اضافی اقدامات تیز کردیے ہیں تاکہ صارفین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔