استاد الاساتذہ حاجی عبدالعزیز خان عمرانی مرحوم

چراغِ علم، سفیرِ شرافت
استاد الاساتذہ حاجی عبدالعزیز خان عمرانی مرحوم


تحریر: چوہدری احمد (ڈیرہ غازی خان)
اک مسافر تھا، کچھ دیر ٹھہرا یہاں
تاریخ گواہ ہے کہ کچھ شخصیات صرف سانس لینے نہیں آتیں، وہ معاشروں کی تقدیر بدلنے کے لیے پیدا ہوتی ہیں۔ وہ بظاہر ایک عام انسان کی طرح دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، مگر اپنے پیچھے علم، کردار اور خدمت کی ایسی خوشبو چھوڑ جاتی ہیں جو نسلوں تک پھیلتی رہتی ہے۔
استاد الاساتذہ، حاجی عبدالعزیز خان عمرانی مرحوم بھی انہی نابغہ روزگار شخصیات میں سے تھے، جن کا وصال صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
جہالت کے اندھیروں میں علم کی شمع
ڈیرہ غازی خان کا قصبہ یارو کھوسہ ماضی میں تعلیمی پسماندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ایسے حالات میں حاجی عبدالعزیز عمرانی مرحوم نے اس بنجر زمین میں علم کا بیج بویا۔
ستر اور اسی کی دہائی میں جب لوگ دولت، بیرونِ ملک روزگار اور مادی آسائشوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے، اس درویش صفت استاد نے اپنی کچی جھونپڑی میں بیٹھ کر جہالت کے خلاف خاموش مگر مضبوط جہاد جاری رکھا۔
انہوں نے اپنی زندگی، آرام، حتیٰ کہ سرکاری عہدوں کو بھی علم کی خدمت پر قربان کر دیا۔
عہدہ، اختیار اور پھر خودداری
حاجی عبدالعزیز عمرانی مرحوم نے اسسٹنٹ آفیسر جیسے باوقار عہدے پر بھی خدمات انجام دیں، مگر جب محسوس کیا کہ اصل خدمت تدریس میں ہے تو خود یہ عہدہ چھوڑ دیا۔
وہ مختلف سکولوں میں بطور ہیڈ ٹیچر تعینات رہے اور اپنی دیانت، وقت کی پابندی اور اصول پسندی سے مثال قائم کی۔
مختلف تعلیمی بورڈز اور شہروں میں امتحانی عملہ، سپرنٹنڈنٹ اور پیپر مارکنگ کی ذمہ داریاں بھی طویل عرصے تک نبھائیں، جہاں ان کی ایمانداری اور غیر جانبداری ضرب المثل رہی۔
محسنِ تعلیم اور بے لوث خدمت
حاجی صاحب کا فیض صرف ان کی اپنی اولاد تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے سینکڑوں غریب اور نادار بچوں کو اپنے ذاتی وسائل سے تعلیم دلوائی۔
آج ان کے شاگرد پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر ان کے لیے صدقۂ جاریہ بن چکے ہیں۔
سادگی کا یہ عالم تھا کہ نہ کبھی بنگلوں کی خواہش کی اور نہ ہی آسائشوں کی۔ وہ ہمیشہ اپنے آبائی کچے گھر میں رہ کر سادہ زندگی، اعلیٰ سوچ کی عملی تصویر بنے رہے۔
عبادت، امامت اور کردار
حاجی عبدالعزیز عمرانی مرحوم نہ صرف ایک عظیم استاد بلکہ ایک باعمل مسلمان بھی تھے۔
وہ امام مسجد کے طور پر جمعہ کے خطبات بھی دیتے رہے۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور تہجد ان کی زندگی کا لازمی حصہ تھا۔
چائے کے شوقین، مویشیوں سے محبت رکھنے والے، خوددار اور محنتی انسان تھے۔ اپنے کام خود کرتے اور کبھی کسی کا حق نہیں کھایا۔
بیماری میں بھی بندگی کا چراغ
زندگی کے آخری ایام میں وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے۔ شدید کمزوری کے باعث چلنا پھرنا بھی ناممکن ہو گیا، مگر عبادت ترک نہ کی۔
تہجد، ذکرِ الٰہی اور تلاوتِ قرآن مسلسل جاری رہی۔ بعض اوقات تو قرآن کی برکت سے بیماری کی شدت میں کمی محسوس ہوئی، جس پر ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔
آخری سفر اور تاریخ ساز جنازہ
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں، مغفرت کے عشرے میں، اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نیک بندے کو اپنے حضور بلا لیا۔
یارو کھوسہ میں ادا کی جانے والی نمازِ جنازہ علاقے کی تاریخ کی سب سے بڑی نمازِ جنازہ تھی، جو اس بات کی گواہی ہے کہ حاجی صاحب لوگوں کے دلوں میں بستے تھے۔
صالح اولاد، روشن تسلسل
حاجی عبدالعزیز عمرانی مرحوم خوش نصیب تھے کہ انہیں آخری وقت تک ان کے بیٹوں، خصوصاً آصف عمرانی صاحب اور طارق عزیز عمرانی صاحب کی بے مثال خدمت نصیب ہوئی۔
ان کی اولاد اور خاندان کے اکثر افراد تعلیم یافتہ ہیں اور مختلف ذمہ دار عہدوں پر فائز ہو کر ان کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
حکومتِ وقت سے مطالبہ
ایسے مخلص، دیانتدار اور قوم ساز اساتذہ کے لیے ضروری ہے کہ
حکومتِ وقت ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں سرکاری اعزازات، تمغے اور انعامات کا اعلان کرے
تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ قومیں کردار سے بنتی ہیں، دولت سے نہیں۔
حاجی عبدالعزیز خان عمرانی آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کے جلائے ہوئے علم کے چراغ رہتی دنیا تک روشنی دیتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
ہقینا ان کی اولاد،رشتہ دار،شاگر فخر کرتے ہیں کہ ان کا تعلق ایک عظیم علمی ،روحانی شخصیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
خاص کر اولاد کے لیے بڑے فخر کی بات ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *