اسلام آباد(اوصاف نیوز) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پیٹرولیم لیوی میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے ایران جنگ کے باعث ہونے والے 55 روپے فی لیٹر اضافے میں سے 20 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی بڑھا دی ہے۔
حکام کے مطابق پیٹرولیم لیوی کو 84 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں کشیدگی کے باعث یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
دوسری جانب عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
واضح رہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی حالات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک کی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔