پنجاب کو جنوبی ایشیا کا بڑا ٹیکنالوجی مرکز بنانے کا ہدف، ایک لاکھ نوکریوں کی توقع
لاہور (محمد منصور ممتاز سے)
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کی پہلی مصنوعی ذہانت (اے آئی) روڈ میپ کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت صوبے کو 2029 تک جنوبی ایشیا کا نمایاں مصنوعی ذہانت مرکز بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پنجاب میں دنیا کا پہلا اے آئی ڈیلیوری یونٹ قائم کیا جائے گا جو حکومتی نظام اور عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اس اے آئی ڈیلیوری یونٹ اور منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والی خصوصی پراجیکٹ ٹیم کی سربراہ ہوں گی۔
اے آئی روڈ میپ کے حوالے سے دی گئی بریفنگ میں صوبائی مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار نے بتایا کہ اس منصوبے سے آئندہ تین برسوں میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے نتیجے میں پنجاب کی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں پانچ سے دس فیصد تک اضافہ ممکن ہے جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی کے ذریعے دس سے بیس ارب ڈالر تک زرمبادلہ میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روڈ میپ کے تحت مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ، انتظامی نظام، شہری خدمات، روزگار کے لیے مہارتوں کی تربیت، معاشی ترقی اور حکمرانی کے نظام میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے چار خصوصی ٹیمیں بھی قائم کی جائیں گی جو خصوصی منصوبوں، ڈیٹا مینجمنٹ، اسٹریٹجک آپریشنز اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن کے شعبوں میں کام کریں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اے آئی ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ کے قیام کی بھی منظوری دے دی اور ہدایت کی کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کے ممتاز ماہرین کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ منصوبے کی مؤثر رہنمائی ممکن بنائی جا سکے۔
عمل درآمد کے شیڈول کے مطابق مارچ میں پنجاب اے آئی روڈ میپ منشور پیش کیا جائے گا جبکہ جون میں اے آئی ڈیلیوری یونٹ کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جائے گا۔ جولائی میں اے آئی گورننس پالیسی جاری کی جائے گی جبکہ اگست میں یوم آزادی کے موقع پر گلوبل ٹیک پارٹنرشپ اور سٹیزن پورٹل کا اجرا کیا جائے گا۔
مزید اقدامات کے تحت ستمبر میں ہیلتھ بورڈ ایپ متعارف کروائی جائے گی، اکتوبر میں اسموگ کی نگرانی اور تدارک کے لیے اے آئی پر مبنی نظام نافذ کیا جائے گا جبکہ نومبر میں کسان اے آئی بورڈ قائم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ زرعی انٹرنز کو کسان اے آئی بوٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ کسانوں کو جدید زرعی مشورے فراہم کیے جا سکیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب کے 100 اسکولوں میں پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا نصاب متعارف کرایا جا چکا ہے جبکہ مزید 155 اسکولوں میں اپریل سے اے آئی کی تعلیم شروع کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہر شعبے کی کارکردگی اور صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ روڈ میپ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور صوبے کے نوجوان ٹیلنٹ کو ایک مشترکہ ٹیکنالوجی وژن کے تحت متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔