خبر:
ڈیرہ غازی خان (چوہدری احمد سے)
ڈیرہ غازی خان کے محکمہ خوراک کے زیر انتظام گندم خریداری مرکز شاہ صدر دین میں سرکاری گندم کی مبینہ خردبرد کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کے دوران سنٹر انچارج اور متعلقہ عملہ موقع سے غائب پایا گیا جبکہ معاملے کی باقاعدہ رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔
ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر آفس کی جانب سے ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ ڈیرہ غازی خان ریجن کو ارسال کیے گئے خط نمبر DFC-DGK-2026/710 میں بتایا گیا ہے کہ گندم خریداری مرکز شاہ صدر دین میں سنٹر انچارج مسٹر ثاقب علی ورک (FGS) کے زیر نگرانی سرکاری گندم کے ذخائر میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ حساب کتاب ڈائریکٹوریٹ جنرل فوڈ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ریکوری ریٹ کے مطابق کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سنٹر انچارجز سرکاری گندم کے ذخائر کے بنیادی نگہبان ہوتے ہیں اور ان پر گندم کی حفاظت، مناسب اسٹیکنگ اور ضابطہ کار کے مطابق تقسیم کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تاہم سامنے آنے والی کمی مبینہ طور پر غفلت یا بدانتظامی کی نشاندہی کرتی ہے۔
دوسری جانب غلام شبیر خان کھوسہ، سمیع اللہ کھوسہ، ثناء اللہ خان دستی، عبدالکریم، غلام مصطفیٰ اور محمد حنیف سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور سماجی شخصیات نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور فوری ریکوری یقینی بنائی جائے۔
شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اس بڑے اسکینڈل کے بعد پورے ڈویژن کے گندم خریداری مراکز (PR سنٹرز) کی مکمل چھان بین کرائی جائے اور وزیراعلیٰ خود اس معاملے کا نوٹس لیں، کیونکہ ماضی میں اس نوعیت کے کئی کیسز محکمہ خوراک اور محکمہ اینٹی کرپشن کی مبینہ ملی بھگت کے باعث فائلوں میں دب کر رہ گئے۔