مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 22 مئی کو بلوچستان بھر میں بھرپور عوامی احتجاج ہوگا — مولانا عبد الواسع

تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی

ملکِ خداداد پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک نہایت نازک، کربناک اور اضطراب خیز دور سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف مہنگائی کا طوفان غریب عوام کی زندگیوں کو نگل رہا ہے، تو دوسری جانب بے روزگاری، غربت، معاشی ابتری اور پیٹرولیم مصنوعات کی آئے روز بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ریاستی پالیسیوں کی ناکامی، معاشی بے یقینی اور حکمران طبقے کی عوام دشمن معاشی حکمتِ عملی نے غریب اور متوسط طبقے کیلئے زندہ رہنا بھی دشوار بنا دیا ہے۔

ایسے تشویشناک اور گھمبیر حالات میں قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے حکم پر ملک بھر میں 22 مئی بروز جمعہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت، پیٹرولیم مصنوعات میں ہوشربا اضافے اور عوام دشمن معاشی فیصلوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ احتجاج محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ مظلوم، پسے ہوئے اور معاشی استحصال کے شکار عوام کی اجتماعی آواز اور قومی غیرت کا اظہار ہے۔

اسی سلسلے میں صوبائی امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان حضرت مولانا عبد الواسع کی ہدایت پر بلوچستان بھر کے تمام ضلعی امراء، نظماء، ذمہ داران، کارکنان اور عوام الناس کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں کی تیاریوں کو فوری اور منظم بنیادوں پر تیز کریں، عوامی رابطہ مہم کو مؤثر بنائیں اور ہر شہر، قصبے اور تحصیل میں مہنگائی کے خلاف عوامی شعور کو بیدار کریں۔

آج وطنِ عزیز کا المیہ یہ ہے کہ ایک مزدور دن بھر کی مشقت کے باوجود اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہیں کر پا رہا، ایک سفید پوش خاندان بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کے بلوں تلے دب چکا ہے، نوجوان نسل ڈگریاں ہاتھوں میں لئے بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے، جبکہ کسان، مزدور، تاجر اور تنخواہ دار طبقہ معاشی بدحالی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات میں مسلسل اضافے نے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے نظام کو متاثر کیا بلکہ ہر شے کی قیمت کو آسمان تک پہنچا دیا۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، ادویات اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ عوام پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر کب تک حکمران آئی ایم ایف کی شرائط پر قوم کا معاشی گلا گھونٹتے رہیں گے؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) 2025 میں تقریباً 407 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ظاہر کیا گیا، جبکہ شرحِ نمو تقریباً 3.1 فیصد رہی۔
اسی طرح بعض معاشی رپورٹس کے مطابق مہنگائی کی شرح میں وقتی کمی ضرور دیکھی گئی، مگر زمینی حقائق میں عوام کو حقیقی ریلیف میسر نہ آ سکا۔

پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 5 فیصد سے زائد بتائی جا رہی ہے، جبکہ غیر اعلانیہ اور جزوقتی بے روزگاری اس سے کہیں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق GDP میں اضافہ اُس وقت عوام کیلئے سودمند ثابت ہوتا ہے جب قومی دولت کا بہاؤ نچلے طبقے تک پہنچے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں معاشی ترقی کے ثمرات صرف اشرافیہ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ GNP یعنی مجموعی قومی پیداوار، جو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی آمدن کو بھی شامل کرتی ہے، پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر اس کے باوجود ملک کے اندر غربت، افلاس اور مہنگائی کی شدت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ناقص معاشی منصوبہ بندی، کرپشن، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور بیرونی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔

جمعیت علماء اسلام کی جانب سے دی جانے والی احتجاجی کال دراصل عوامی احساسات کی ترجمانی ہے۔ اس احتجاج کا مقصد انتشار یا افراتفری نہیں بلکہ حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہے کہ عوام اب خاموش رہنے کیلئے تیار نہیں۔ قوم اپنے آئینی، جمہوری اور عوامی حقوق کیلئے میدان میں نکلنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
تمام علماء کرام، طلباء، وکلاء، تاجروں، مزدوروں، کسانوں، نوجوانوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو چاہئے کہ وہ اس احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کرکے یہ ثابت کریں کہ پاکستانی قوم مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی استحصال کے خلاف متحد ہے۔

اگر آج بھی قوم نے خاموشی اختیار کی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ظلم، معاشی ناانصافی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ایک مضبوط، متحد اور توانا آواز بلند کی جائے تاکہ حکمران ایوانوں تک عوام کی چیخ و پکار پہنچ سکے۔

یہ احتجاج دراصل مظلوم عوام کی امید، معاشی غلامی کے خلاف اعلانِ بغاوت، اور ایک باوقار، خودمختار اور خوشحال پاکستان کیلئے جدوجہد کا استعارہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *