آج کل پوری دنیا استعمار کی لپیٹ میں ہے حتیٰ کہ شعورِ انسانی بھی استعمارکی مرضی سے سوچنے سمجھنے اورماننے پرمجبورہے۔گوکہ وہ اس دجل میں ہے کہ وہ جوکچھ دیکھ سن اورسمجھ رہا ہے وہ اپنی مرضی سے کررہاہے، لیکن ایسا ہرگزنہیں بلکہ وہ عالمی سامراجی غیرمرئی قوتوں کے آلہ کارکے طورپرکررہا ہے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عالمی سامراجی قوتیں اپنے ذرائع سے دوسرے ممالک میں اپنی مارکیٹنگ کے لیے کچھ تحقیقی رپورٹ بناتی ہیں جیسے امراض یاوائرس کے اثرات پھروہ رپورٹ آگاہی کے طورپران لوگوں تک پہنچائی جاتی ہیں جن کے شعورمیں پہلے ہی سے بٹھایا جاچکا ہوتا ہے،کہ یہ سامراج نہیں بلکہ خدمتِ خلق ہمدردانِ انسانیت لوگوں کاانسانیت پراحسانِ بے بہا ہے۔لہذااستعمارکے قبضے میں پھنسے شعوراس سامراجی کاوش کوانسانی ہمدردی کے روپ میں لوگوں میں پھیلانا شروع کردیتے ہیں،اورعام سادہ لوح انسانوں کوبار باردھائی دیتے ہیں کہ اس آنے والی بیماری یا وائرس سے بچناناممکن ہے،لہذاعام لوگ اس نامعلوم آفت کے خوف میں اس قدر مبتلا ہوجاتے ہیں کہ کسی عام طبعی بے احتیاطی کی کسی کیفیت کو محسوس کرتے ہی بے دم ہوکرڈاکٹرکے بیڈ پرجاپڑتے ہیں،اورڈاکٹرجوپہلے ہی اس بات پرتیارہوتا ہے،کہ نعوذباللہ ایساکوئی مرض اللہ نے نہیں بنایاجس کاگوروں کو پتہ نہ ہو،لہذاوہ بھی اسی ایمانِ بالغیب پرمریض کوفوراًمشورہ دیتا ہے کہ ٹیسٹ کرائیں کہیں،”وہ ہی نہ ہو“کیا وہ ہی پتانہیں،کہتے ہیں ایک دوردرازگاوں میں جہاں کبھی کسی نے اونٹ نہ دیکھا تھا،ایک بندہ کوئی اونٹ لے کرگزرا،لوگ حیران وششدر ہوکردیکھنے لگے سارے گاوں کے لڑکے بالے بڈھے جوان اکٹھے ہوگئے،اب کسی کوپتہ نہ تھاکہ یہ کیا ہے،آخرسب نے کہا بڑی اماں کو بلاواس کو توپتہ ہوگا وہ سب سے سیانی یااپنے وقت کی ڈاکٹرتھی، بڑی اماں آگئی اورسب کوحیران وششدر دیکھ کرخودبھی حیران ہوگئی پھران سب کی طرف دیکھااوررونے لگی،لوگ اورزیادہ پریشان ہوگئے کہ یہ کوئی بلاہی ہوگی،تھوڑی دیربعدبڑی اماں ہنسنے لگی،اب ان لوگوں نے پوچھایہ بتاوکہ آپ پہلے روئی ہیں اورپھرہنسی کیوں ہیں،توبڑی اماں نے کہا بچومیں روئی اس لیے تھی کہ آج اگرمیں نہ ہوتی توآپ کوکون بتاتاکہ یہ کیا ہے،اورپھرہنسی اس لیے ہوں کہ مجھے بھی نہیں پتہ کہ یہ کیا ہے۔ اب اسی وہ ہی کے چکرمیں مریض خودبخودوہ ہی ہوجاتا ہے،جواستعمارچاہتا ہے۔اورپھردنیا کے ایسے تمام ممالک میں صرف ہسپتال،میڈیکل سٹوراورڈاکٹرزبڑھتے جاتے ہیں،بقول کسی شاعرکے،”جہلِ خرد نے یہ دن ہیں دکھائے،گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے“ اب استعماربغیرہینگ وپھٹکڑی ضائع کئیے خوب رنگ دکھاتا ہے۔ادویات، آلات ٹیسٹ،احتیاطی احکامات،اورپتہ نہیں کیا کیاجو استعماراحسان کرتے ہوے بیچتا ہے،اور ہمارے استعمارزدہ شعوردامے درہمے سخنے اس کی حمایت کرتے ہیں،ابھی پچھلے سالوں میں کوروناکے بارے میں استعمارنے کہا یہ آرہا ہے،اورآن کی آن میں آگیا، کچھ لوگوں کو جب لیت ولعل کرتے دیکھا تو استعمارنے ماننے ولے ملکوں کومفت امداددینے کااعلان کردیا،اب اس امداد کا مقصدعوام کی مشکلات کم کرنانہ تھا بلکہ عوام کوحکمِ استعمارکے تحت حکومتی طاقت سے کاروباراورعلاج معالجے سے روکنا تھا،ہمارے استعمارکے ”جادوکے کیلے“ شعوروں نے اورہمارے پیسے پرریجھے حکمرانوں نے عوام کووہ ستایا کہ لوگ دعائیں کرنے لگے کہ یا اللہ کوروناکوبھیج کرہمیں اس عذاب بھوک وننگ سے نجات دے،اور ہمیں اٹھا لے۔اب جب تین چارسال گزرجانے کے بعدکچھ باشعورلوگوں کے شعورپرسے استعمارکی ”کیل“ ٹوٹنے لگی توکئی ملکوں کے ڈاکٹروں نے سوائے پاکستان کے یہ کہناشروع کیا کہ کوروناکوئی وبا نہ تھی، تواب استعمارنے ایک نیا پنڈوراباکس کھول لیا ہے، ہنٹاوائرس آرہا ہے،توایسے تمام ”استعمارکے جادوسے کیلے“ ہوے شعوراب عوام الناس کے شعوروں میں یہاں تک بٹھانے میں لگے ہوے ہیں،کہ یہ وائرس شاید آپ کووصیت کرنے کا موقع بھی نہ دے گا،لہذاپہلے ہی کلمہ کلام پڑھ لواوروصیت وغیرہ لکھ کررکھ دو۔ساری دنیا نے تعلیم سے شعور وترقی حاصل کی ہے،صرف پاکستان میں تعلیم انگریزوں کی شان میں قصیدے پڑھنا،ان کی سیل مینی کرنا،اس ملک کولوٹ کران کے بینکوں کوبھرنا،ہربات میں ان سے بھیک مانگنا سکھاتی ہے،سیاسی حکمران ہوں یا سرکاری بااختیارلوگ انہوں نے کبھی اس قوم کے تعلیم یافتہ دانشوروں سے یہ پوچھنا گوارانہیں کیا کہ تمہارے اوپریہ اربوں روپے اس قوم اورملک کے جوخرچ کیے جاتے ہیں،کیایہ صرف اس لیے ہیں کہ جوکچھ استعماری طاقتیں کہیں تم اس کومن وعن تسلیم کرلواس میں اپنی تحقیق اورشعورسے کچھ ردوبدل نہ کرسکو۔ ایسا وہ کیسے پوچھیں جبکہ خود ان کے شعوربھی اسی استعماری جادوکی کیل میں ہیں۔علامہ اقبال نے فرمایاتھا”ہے وہی تیرے زمانے کاامامِ برحق،جوتجھے حاضروموجود سے بیزار کرے“ اور ہمارے امامان اسی نظم کا مقطع کے مطابق ”فتنہ ملتِ بیضاہے امامت اس کی،جومسلماں کوسلاطین کاپرستارکرے“اوراستعماریت بھی سلطانیت ہے،اورجولوگ اس کی قدغنوں کومانتے اوران کوماننے پرمسلمانوں کو مجبورکرتے ہیں،وہی فتنہ ملتِ بیضاہیں،اللہ تعالیٰ مسلم امت کواستعمارکے بجائے اسلام کی پیروی میں آنے کی توفیق عطافرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔
حکیم قاری محمدعبدالرحیم
استعمارکی قدغنیں
