یادِ ماضی… ایک مہربان پناہ گاہ

“یادِ ماضی خوشگوار ہے میرا… چھیننا نہ حافظہ میرا”

تحریر : محمد منصور ممتاز

“یادِ ماضی خوشگوار ہے میرا… چھیننا نہ حافظہ میرا”
یقینامیں نے شعر اُلٹا پڑھا، مگر احساس سیدھا دل میں اُتر گیا…
زندگی کے سفر میں انسان کبھی خوشیوں کی چھاؤں میں چلتا ہے، تو کبھی آزمائشوں کی تپتی دھوپ اِسے تھکا دیتی ہے۔ میں بھی ایک عام اِنسان ہوں… مختلف حالات، مختلف رویے، اور مختلف دکھ کبھی نہ کبھی دل کو بوجھل کر ہی دیتے ہیں۔
مگر میرے ربِ کریم کا مجھ پر ایک خاص کرم ہے…
جب بھی دل اُداس ہوتا ہے، وہ مجھے ماضی کی کسی خوشگوار گلی میں لے جاتا ہے۔
آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا…
دل بوجھل تھا، طبیعت کلینک پر جانے کو آمادہ نہ تھی۔ دل چاہتا تھا کہ گھر کی خاموشی میں پناہ لے لوں، کھانا کھاؤں، نماز ادا کروں اور بس سکون سے بیٹھ جاؤں۔ نماز کے بعد جب یونہی موبائل کھولا تو فیس بُک پر ایک ویڈیو نے جیسے وقت کو روک لیا…
یہ ویڈیو میرے بچپن کے دوست محمد آصف مغل نے شیئر کی تھی…
اور وہ ویڈیو تھی… میرے ننھیال کے گاؤں سنکھترہ کی۔
ایک لمحے میں جیسے میں حال سے نکل کر ماضی میں پہنچ گیا…
وہی گاؤں کی گلیاں، وہی مٹی کی خوشبو، اور وہی “پاء مجیدہ” کی بھٹی…

پاء مجیدہ… ایک سادہ مگر غیر معمولی انسان۔دیندار، سخی، مخلص، اور محبت بانٹنے والا۔

ہم جب بھی ننھیال جاتے، تو میرے پیارے ماموں حافظ محمد خلیل کے ساتھ روزانہ اُس بھٹی پر جانا معمول بن جاتا۔
ماموں خلیل… قرآن کے حافظ، خوبصورت اخلاق کے مالک، اور ایسی مسکراہٹ کے حامل کہ جو ایک بار ملتا، ہمیشہ کے لیے اُن کا ہو جاتا۔
ماموں خلیل کی زندگی قلیل تھی مگر غمِ جُدائی طویل ۔۔۔
اللہ تعالیٰ اُن کے درجات تا قیامت بڑھاتا رہے ،
آمین ثم آمین

ہم گاؤں کی گلیوں سے گزرتے، بھٹی پر پہنچتے، گرم گرم چنے، چاول یا گندم لیتے، اور پھر گاؤں سے ذرا دور گورنمنٹ ہائی سکول سنکھترہ کے میدان میں جا بیٹھتے…

وہاں بیٹھ کر گپ شپ ہوتی، قہقہے گونجتے، اور کئ گھنٹے ایک منٹ میں گزر تے محسوس ہوتے ۔۔۔دل چاہتا کہ وقت تھم جائے مگر ایساممکن نہی ۔۔۔
وقت اچھا ہو یا بُرا گزر ہی جاتا ہے۔۔۔۔

عجیب بات ہے نا… اُس وقت دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر باتوں میں جو مزہ آتا تھا، وہ آج ہزاروں ویڈیوز اور موبائل کے باوجود کہیں نہیں ملتا۔
اُن دوستوں میں ایک نام محمد آصف مغل کا بھی تھا… آج اُسی کی شیئر کی ہوئی ویڈیو نے میرے دل کے بند دروازے کھول دیے۔
ماضی کے وہ لمحے… وہ دن… وہ لوگ…
سب ایک بار پھر میرے حال کا حصہ بن گئے۔
اور سچ کہوں تو… دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا… چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی…
میں نے محسوس کیا کہ جب بھی میں کسی آزمائش میں گِھرتا ہوں، اور بے چین ہو کر اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہوں، تو وہ میرے لیے کوئی نہ کوئی سبب پیدا کر دیتا ہے… کبھی کسی یاد کے ذریعے، کبھی کسی شخص کے ذریعے…
اور میں اُس مشکل لمحے سے نکل آتا ہوں۔
میرا مشاہدہ ہے کہ بہت سے لوگ مستقبل کی فکر میں اِس قدر کھو جاتے ہیں کہ اپنا حال برباد کر لیتے ہیں…
مگر میں اپنے رب کا جتنا بھی شُکر ادا کروں، کم ہے…
کیونکہ اُس نے مجھے یہ نعمت دی ہے کہ میرا ماضی، میرے لیے بوجھ نہیں… بلکہ ایک خوشگوار سہارا ہے۔
میں جب بھی ماضی کو یاد کرتا ہوں، مجھے افسوس نہیں ہوتا… مایوسی نہیں ہوتی… بلکہ ایک عجیب سا سکون ملتا ہے… الحمدللہ۔
تو اے میرے دوست…
جب بھی زندگی میں دُکھ، تکلیف یا آزمائش آئے… مایوس نہ ہونا…
اپنے رب کی طرف رجوع کرنا… اور اپنے ماضی کے کسی خوبصورت لمحے کو تھام لینا…
اُسے اپنے حال میں لے آنا…
دیکھنا… دل خودبخود ہلکا ہو جائے گا۔
اور پھر آپ بے اختیار کہہ اُٹھیں گے:
“یادِ ماضی خوشگوار ہے میرا… چھیننا نہ حافظہ میرا”
اور وہ مایوسی والا شعر… “یادِ ماضی عذاب ہے یا رب… چھین لے حافظہ میرا”
ہمیشہ کے لیے آپ کی زندگی کی کتاب سے نکل جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *