عراق میں امریکی فوجی طیارہ حادثہ، چار اہلکار ہلاک جبکہ دو تاحال لاپتہ

عراق میں امریکی فوجی طیارہ حادثہ پیش آنے سے چار امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ دو اب بھی لاپتہ ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو مغربی عراق میں پیش آیا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ طیارے میں چھ عملے کے ارکان موجود تھے۔ عراق میں امریکی فوجی طیارہ حادثہ کے بعد چار اہلکاروں کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ دو کی تلاش جاری ہے۔

واقعے کی تحقیقات جاری

امریکی فوج کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ فضائی ایندھن فراہم کرنے والا فوجی طیارہ تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرواز کے دوران ایک اور طیارہ بھی اس کارروائی میں شامل تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا کہ عراق میں امریکی فوجی طیارہ حادثہ دشمن یا اپنے ہی حملے کا نتیجہ نہیں تھا۔ حکام کے مطابق حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

دوسرا طیارہ محفوظ رہا

ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ حادثے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا۔ یہ بھی فضائی ایندھن فراہم کرنے والا کے سی ایک سو پینتیس طیارہ تھا۔

یہ طیارہ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے بیڑے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور جنگی طیاروں کو دوران پرواز ایندھن فراہم کرتا ہے۔

حادثے سے متعلق مختلف دعوے

امریکی حکام نے عراق میں امریکی فوجی طیارہ حادثہ کو حادثاتی واقعہ قرار دیا ہے، تاہم ایرانی ذرائع نے مختلف دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے مطابق طیارے کو مغربی عراق میں نشانہ بنا کر مار گرایا گیا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں بڑی تعداد میں فوجی طیارے تعینات کر رکھے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عراق میں امریکی فوجی طیارہ حادثہ فضائی ایندھن کی فراہمی کے دوران پیش آنے والے خطرات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

حالیہ امریکی فوجی ہلاکتیں

اس حادثے سے قبل بھی امریکی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کویت میں ایک فوجی اڈے پر ڈرون حملے میں سات امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے دوران تقریباً ایک سو پچاس امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسی روز امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ میں آگ لگنے سے دو امریکی ملاح زخمی ہوئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث مزید جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *