وزیراعلیٰ پنجاب سے ٹرانسفر آرڈرز فوری جاری کرنے اور ڈاکٹروں کو ٹیچنگ ہسپتالوں میں تعینات کرنے کا مطالبہ
لاہور (محمد منصور ممتاز سے)
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے محکمہ صحت و آبادی میں سیکرٹری صحت کی زبانی ہدایت پر 580 ڈاکٹروں کے ٹرانسفر آرڈرز روکے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹروں کے ٹرانسفر آرڈرز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور انہیں تدریسی ہسپتالوں میں تعینات کیا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
پروفیسر شاہد ملک نے کہا کہ سابق سیکرٹری صحت علی جان کے دور میں ٹیچنگ ہسپتالوں سے پرائمری اور پرائمری سے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے ٹرانسفر ایک معمول کا انتظامی عمل تھا، تاہم موجودہ سیکرٹری صحت کی تعیناتی کے بعد تمام ٹرانسفر کو سنٹرلائز کر کے عملاً روک دیا گیا ہے، جس کے باعث ڈاکٹر سفارشوں کے حصول کے لیے دربدر پھرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ ڈاکٹرز بھی متاثر ہو رہے ہیں جنہوں نے دیہی علاقوں میں تین سالہ لازمی سروس مکمل کر لی ہے، اس کے باوجود ان کے ٹرانسفر آرڈرز جاری نہیں کیے جا رہے، حالانکہ صوبے کے تدریسی ہسپتال اس وقت ڈاکٹروں کی شدید کمی کا شکار ہیں۔
صدر پی ایم اے لاہور کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ صحت اور محکمہ صحت و آبادی کے سیکرٹریوں کے درمیان عدم ہم آہنگی کے باعث دونوں محکموں کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جس کا براہِ راست نقصان نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ مریضوں کو بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں
اسے روزنامہ جنگ / ایکسپریس / دی نیوز کے خاص اسٹائل میں
یا ٹی وی نیوز پیکج کے اسکرپٹ میں بھی ڈھال سکتا ہوں۔
لاہور (محمد منصور ممتاز سے )
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے محکمہ صحت و آبادی میں سیکرٹری صحت کی زبانی ہدایت پر 580 ڈاکٹروں کے ٹرانسفر آرڈرز روکے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹروں کے ٹرانسفر آرڈرز فوری طور پر جاری کیے جائیں اور انہیں تدریسی ہسپتالوں میں تعینات کیا جائے۔
ڈاکٹر شاہد ملک کا کہنا تھا کہ سابق سیکرٹری صحت علی جان کے دور میں ٹیچنگ ہسپتالوں سے پرائمری اور پرائمری سے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ٹرانسفر ایک معمول کا عمل تھا، مگر جب سے موجودہ سیکرٹری صحت تعینات ہوئی ہیں، انہوں نے تمام ٹرانسفر کو سنٹرلائز کر کے عملاً روک دیا ہے، جس کی وجہ سے ڈاکٹر سفارشوں کے پیچھے بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
پروفیسر شاہد ملک نے کہا کہ جن ڈاکٹروں نے دیہاتی علاقوں میں تین سالہ لازمی مدت پوری کر لی ہے، ان کے بھی ٹرانسفر آرڈرز جاری نہیں کیے جا رہے، حالانکہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ صحت اور محکمہ صحت و آبادی کے سیکرٹریوں کے درمیان مکمل عدم ہم آہنگی کے باعث دونوں محکموں کا نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور اس کا براہِ راست نقصان مریضوں اور ڈاکٹروں دونوں کو پہنچ رہا ہے۔