واشنگٹن: روس کے تیل پر پابندیوں میں نرمی کے بعد امریکا کو یورپی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے روس کو جنگ کے لیے مزید مالی وسائل فراہم ہو سکتے ہیں اس لیے روس پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔ فرانسیسی اور یوکرائنی صدور نے بھی امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے۔
ادھر جرمن چانسلر نے کہا کہ امریکی فیصلہ غلط ہے۔ جرمن چانسلر نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے پاس خلیج فارس میں جنگ کے خاتمے کے لیے واضح حکمت عملی نہیں ہے۔ ایران جنگ نے جرمنی کی توانائی کی قیمتوں پر شدید اثر ڈالا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بیان
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکا نے بھارت کو کئی ماہ تک روس سے تیل نہ خریدنے پر مجبور کیا، لیکن 2 ہفتے کی جنگ کے بعد امریکا دنیا سے بھیک مانگ رہا ہے کہ وہی روسی تیل خریدے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ یورپ کا یہ سادہ سا خیال تھا کہ اسے روس کے خلاف امریکی حمایت حاصل ہو گی، جو کہ باقاعدہ ہے۔