تہران (اے بی این نیوز )ایران میں تیل کے ذخائر پر حالیہ حملوں کے بعد شدید فضائی آلودگی پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کے ذخائر پر بمباری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی کئی دہائیوں تک فضا میں برقرار رہ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے حملوں سے فضا میں بڑی مقدار میں زہریلے اور مضر صحت ذرات شامل ہو جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بمباری سے پھیلنے والا مضر صحت مواد لاکھوں افراد کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد فضا میں دھوئیں، کیمیائی ذرات اور زہریلی گیسوں کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے سانس اور دیگر بیماریوں کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ تیل کے ذخائر پر حملوں کے اگلے روز تہران میں کالی بارش ریکارڈ کی گئی جسے ماہرین فضائی آلودگی اور دھوئیں کے اثرات سے جوڑ رہے ہیں۔ کالی بارش عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب فضا میں موجود آلودہ ذرات بارش کے پانی کے ساتھ زمین پر گرتے ہیں۔
ایران، تیل کے ذخائر، فضائی آلودگی، کالی بارش، ماحولیاتی خطرات، مشرق وسطیٰ، جنگ کے اثرات، انسانی صحت، ماحولیاتی آلودگی، عالمی خبریں