“A Happy Mouth is… A Happy Mind”
تحریر: محمد منصور ممتاز
انسانی زندگی میں مسکراہٹ ایک ایسی زبان ہے جو بغیر الفاظ کے دلوں تک رسائی حاصل کر لیتی ہے، مگر اس مسکراہٹ کی بنیاد صحت مند دانت اور مضبوط مسوڑھے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور دانتوں کی اہمیت کا احساس اُس وقت ہوتا ہے جب تکلیف ناقابل برداشت ہو چکی ہوتی ہے۔ اسی شعور کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 20 مارچ کو دنیا بھر میں World Oral Health Day منایا جاتا ہے۔
یہ دن محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ ایک عالمی بیداری مہم ہے، جس کا مقصد انسان کو اس کی مجموعی صحت کے ایک ایسے پہلو کی طرف متوجہ کرنا ہے جو بظاہر چھوٹا مگر حقیقت میں نہایت بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کے آغاز کا سہرا FDI World Dental Federation کے سر جاتا ہے، جس نے 2013 سے اسے باقاعدہ عالمی سطح پر منانا شروع کیا۔ 20 مارچ کی تاریخ بھی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور علامتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک صحت مند بالغ انسان کے 20 قدرتی دانت ہونا مثالی تصور کیا جاتا ہے، بچوں کے دودھ کے دانت بھی 20 ہوتے ہیں، جبکہ بڑھاپے میں بھی کم از کم 20 دانت برقرار رکھنا صحت مند زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے 20 مارچ کو اس عالمی دن کے لیے منتخب کیا گیا۔
دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں، خصوصاً Pakistan جیسے ترقی پذیر ممالک میں، اس دن کو نہایت اہمیت دی جاتی ہے۔ ڈینٹل کالجز، ہسپتال، اور کلینکس کی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جاتی ہیں، فری چیک اپ کیمپس لگائے جاتے ہیں اور اسکولوں میں بچوں کو دانتوں کی صفائی کے بنیادی اصول سکھائے جاتے ہیں۔ میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے، جو عوام تک یہ پیغام پہنچاتا ہے کہ منہ کی صحت دراصل پورے جسم کی صحت سے جڑی ہوئی ہے۔
اسی عالمی پیغام کو اس سال ایک خوبصورت اور بامعنی سلوگن میں سمو دیا گیا ہے:
“A Happy Mouth is… A Happy Mind”
یعنی “صحت مند منہ، خوشحال ذہن”۔
یہ سادہ مگر گہرا پیغام ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ منہ کی صحت صرف دانتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری ذہنی کیفیت، اعتماد اور روزمرہ زندگی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک صحت مند منہ نہ صرف ہمیں بہتر انداز میں کھانے، بولنے اور مسکرانے کے قابل بناتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور خوشی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
عالمی اداروں کے مطابق دنیا کی ایک بڑی آبادی زندگی میں کسی نہ کسی وقت منہ کی بیماریوں کا شکار ہوتی ہے۔ ان میں سب سے عام مسئلہ Dental Caries یعنی دانتوں میں کیڑا لگنا ہے، جبکہ Gum Disease یعنی مسوڑھوں کی بیماریاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ یہ بیماریاں نہ صرف درد اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں بلکہ جدید تحقیق یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ یہ دل کے امراض اور Diabetes جیسے مسائل کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ یوں ایک معمولی سی لاپرواہی سنگین طبی پیچیدگیوں میں بدل سکتی ہے۔
پاکستان میں صورتحال خاصی تشویشناک ہے، جہاں دانتوں کی صحت کو اکثر غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آگاہی کی کمی اور سہولیات کی محدود دستیابی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ بچوں میں میٹھے کے بڑھتے ہوئے استعمال اور صفائی کی کمی کے باعث کم عمری میں دانتوں کی خرابی عام ہو چکی ہے، جبکہ نوجوانوں اور بزرگوں میں مسوڑھوں کی بیماریاں ایک خاموش مسئلہ بن کر سامنے آ رہی ہیں۔
اس پس منظر میں ورلڈ اورل ہیلتھ ڈے کا پیغام نہایت واضح اور عملی ہے۔ روزانہ دو مرتبہ دانت صاف کرنا، متوازن غذا کا استعمال، میٹھے اور کولڈ ڈرنکس سے پرہیز، اور ہر چھ ماہ بعد ڈینٹل چیک اپ کروانا ایسی سادہ عادتیں ہیں جو ہمیں بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی برش کرنے کی عادت ڈالنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی عادتیں ان کی آئندہ زندگی کی بنیاد بنتی ہیں۔
یہ دن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ صحت مند دانت صرف خوبصورتی کا ذریعہ نہیں بلکہ خود اعتمادی، بہتر غذا اور مجموعی صحت کا ضامن ہیں۔ ایک مضبوط اور صاف مسکراہٹ نہ صرف شخصیت کو نکھارتی ہے بلکہ معاشرتی روابط میں بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ 20 مارچ کا دن ہمیں ایک سادہ مگر گہرا پیغام دیتا ہے:
اپنی مسکراہٹ کی حفاظت کریں، کیونکہ یہی آپ کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ہے۔ اگر ہم آج احتیاط اختیار کریں تو کل بڑی تکالیف سے بچ سکتے ہیں، اور یہی اس عالمی دن کا اصل مقصد ہے۔