اسلام آباد (اے بی این نیوز )عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق فی بیرل قیمت 180 ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کی ترسیل کے نظام کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو نہ صرف تیل بلکہ دیگر توانائی ذرائع کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔ اگر یہ بحران اپریل کے آخر تک برقرار رہا تو خام تیل کی قیمت 180 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں مہنگائی میں اضافہ، صنعتی لاگت میں اضافہ اور عالمی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔