تحریر۔عمرخطاب
آسیہ بی بی کا افسانوی مجموعہ “ڈوبتے چاند کا آخری منظر” اردو افسانوی ادب کے افق پر ایک ایسی تخلیقی دستک ہے جس کی بازگشت عصری سماج کے تلخ حقائق اور انسانی نفسیات کی گہرائیوں میں سنائی دیتی ہے۔ سن دوہزار پچیس میں کونپلیں پبلشرز پشاور کے زیرِ اہتمام پہلے بار شائع ہونے والا یہ مجموعہ بیس افسانوں اور مختصر کہانیوں پر مشتمل ہے، جو محض تخیل کی پرواز نہیں بلکہ مشاہدے کی وہ بھٹی ہے جس میں مصنفہ نے اپنے گرد و پیش کے دکھوں کو پگھلا کر لفظوں کا قالب عطا کیا ہے۔ اس مجموعے کی علمی و ادبی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار، ڈاکٹر عمر قیاز قائل اور ڈاکٹر اعجاز احمد جیسے نقادوں نے اس پر تفصیلی آراء دی ہیں، جو اسے خیبر پختونخوا کے ادبی منظر نامے میں ایک توانا اضافہ قرار دیتے ہیں۔ مصنفہ کا یہ ادبی سفر ان کے والد محمد ظہور قریشی (مرحوم) کے فکری تسلسل کی ایک کڑی ہے، جس کا اعتراف انہوں نے اپنے پیش لفظ میں ان الفاظ میں کیا ہے کہ
“میں نے بچپن ہی سے ان کے قلم سے اٹھنے والی روشنی کو دیکھا اور محسوس کیا… انہوں نے مجھے لفظوں سے محبت سکھائی”۔
مصنفہ نے والدین سے عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے مجموعے کا انتساب بھی والدین اور بھائی کے نام کیاہے۔
اس مجموعے کا تانا بانا سماجی حقیقت نگاری اور نسائی شعور کے گرد بُنا گیا ہے، جہاں ہر کہانی معاشرے کے کسی نہ کسی ناسور کو بے نقاب کرتی نظر آتی ہے۔ افسانہ “مجسٹریٹ درجہ اول” میں مصنفہ نے سرکاری مشینری کی بے حسی اور انسانی جذبوں کے تصادم کو نہایت مہارت سے پیش کیا ہے، جہاں ایک خاتون افسر (عذرا) انتخابی ڈیوٹی کی سختی اور مرتے ہوئے شوہر کی تیمارداری کے درمیان پستی ہے؛ اس کرب کا اظہار یوں ہوتا ہے:
“عذرا نے بسترِ مرگ پر پڑے شوہر کی زرد آنکھوں میں دیکھا… شوہر کی سوالیہ آنکھیں کہہ رہی تھیں: عذرا! نہ جاؤ، میرا کیا ہوگا تمہارے جانے کے بعد؟”۔
اسی طرح افسانہ “قربانی کی عید” غریب طبقے کی اس نفسیاتی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے جہاں مذہبی فریضہ بھی معاشرتی مقابلے بازی کی نذر ہو جاتا ہے اور غریب کو ہر قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ دنیا میں غریب ہونا جہنم کی آگ کی تپش سے کم نہیں۔
آسیہ بی بی کے ہاں عورت کا کردار روایتی مظلومیت سے آگے بڑھ کر ایک احتجاجی رنگ اختیار کر لیتا ہے، جو خاموش ہے مگر نہایت پُر اثر ہے۔ افسانہ “گول روٹی” ہمارے معاشرے کے اس تاریک پہلو کا نوحہ ہے جہاں ایک عورت کی تمام تر قربانیاں محض اس لیے نظر انداز کر دی جاتی ہیں کہ وہ ایک گول روٹی بنانے میں ناکام رہی۔ یہاں مصنفہ لکھتی ہیں کہ
“تم سارا دن آخر کرتی ہی کیا ہو؟….عذرا نے اپنی ہچکی روکنے کے لیے دوپٹے کا پلو منہ میں دبا لیا… یہ محض خاموشی نہیں بلکہ وہ احتجاج تھا جو مردوں کے معاشرے کے خلاف اس کے اندر جنم لے رہا تھا”۔
یہ علامتی انداز قاری کو معاشرتی رویوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مزید برآں، افسانہ “ممتا” میں رشتوں کی پامالی کو اس شدت سے دکھایا گیا ہے کہ بیٹا ماں کی موت پر لاکھوں روپے کی خیرات تو کرتا ہے مگر اس کی زندگی میں اسے ایک پرسکون رات فراہم نہیں کر پاتا۔
مصنفہ کا قلم صرف گھریلو یا سماجی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے انسانی نفسیات اور عالمی مسائل کو بھی اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے۔ افسانہ “نامہ بر تو ہی بتا” میں شیزوفرینیا جیسے پیچیدہ مرض کی نفسیاتی تہیں کھولی گئی ہیں جہاں مرکزی کردار آئینہ دیکھتے ہوئے محسوس کرتی ہے کہ وہ خود سے نہیں بلکہ اپنے اندر بستی کسی دوسری عورت سے گفتگو کر رہی ہے۔
دوسری جانب “فلسطین” جیسے افسانے میں عالمی بے حسی پر کڑی ضرب لگائی گئی ہے، جہاں ایک طرف غزہ میں معصوم بچوں کی لاشیں گر رہی ہیں اور دوسری طرف دنیا کرکٹ کے میچ کے سحر میں مبتلا ہے؛ یہ تضاد انسانی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو آسیہ بی بی کا اسلوب سادہ، شفاف اور ابلاغ کی قوت سے بھرپور ہے۔ ڈاکٹر عمر قیاز قائل کے بقول، ان کا فن مقصد کے تابع ہے اور وہ پیچیدہ فلسفوں کے بجائے زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے معانی کشید کرتی ہیں۔ افسانہ “پتنگ” میں کیمیکل ڈور کے ذریعے خوشی کے لمحات کا اچانک موت میں بدلنا زندگی کی ناپائیداری کی بہترین علامت ہے۔ مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ “ڈوبتے چاند کا آخری منظر” اردو افسانوی ادب میں ایک ایسا آئینہ ہے جس میں معاشرہ اپنے زخموں کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ مجموعہ آسیہ بی بی کی تخلیقی پختگی اور ان کے حساس مشاہدے کا عین ثبوت ہے، جو ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ مانتی ہیں۔
