تحریر۔نظام الدین
50 اور 60 کی دہائی کے بوڑھوں کے چہروں پر سفید بالوں اور جھریوں کے پیچھے ایک عہد کی گواہی ملتی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے وقت کو صرف گزرتے نہیں دیکھا بلکہ اسے بدلتے بھی دیکھا ہے۔ وہ عہد محض سانس لینے کا نہیں تھا بلکہ ایک شعوری سفر تھا؛ ایسا سفر جس میں ہر قدم ذمہ داری، ہر لمحہ امتحان اور ہر فیصلہ ایک سمت کا تعین کرتا تھا۔
موجودہ عہد ٹیکنالوجی اور بے پناہ بہاؤ کا بظاہر روشنیوں سے بھرا ضرور ہے، مگر ذرا ٹھہر کر اور گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو اس روشنی کے پیچھے ایک عجیب سی تاریکی بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تاریکی بجلی کی بندش کی نہیں بلکہ شناخت کے مٹ جانے کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ جملہ شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے عہد کے چہروں پر بے چہرگی ذرا کم ہوتی تھی۔
ہماری آنکھوں نے وہ عہد دیکھا ہے جب کہانیاں سینما کی بڑی اسکرین پر جنم لیتی تھیں۔ بظاہر فلم ختم ہو جاتی، مگر لوگ دیر تک اپنی نشستوں پر بیٹھے رہتے جیسے پردے کے پیچھے زندگی ابھی جاری ہو۔ پھر وہ دن آیا جب ایک ننھی سی چِپ نے دنیا کی بڑی بڑی کہانیوں کو اپنے اندر سمیٹنا شروع کر دیا۔
میں نے اس سفر کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اس دور کو بھی جب کمپیوٹر ایک عجوبہ تھا، اور پھر وہ زمانہ بھی جب آئی بی ایم پی سی نے دفتر، بازار اور گھر سب کو بدل دیا۔ جب ڈیجیٹل انقلاب آیا تو جیب میں رکھا ہوا ایک چھوٹا سا سیل فون پوری دنیا کو انسان کی ہتھیلی پر لے آیا۔
مگر میرا سفر صرف ٹیکنالوجی کا سفر نہیں تھا۔ اس میں انسان کی وہ کہانی بھی شامل تھی جو ہر دور میں ایک جیسی رہتی ہے: محبت، جدوجہد اور قربانی کی کہانی۔
اسکول کی سادہ سی راہداریوں سے یونیورسٹی کے ہنگامہ خیز میدانوں تک پہنچتے پہنچتے زندگی نے کئی رنگ دکھائے۔ انہی دنوں دل نے پہلی بار محبت کا مطلب سمجھا۔ وہی محبت جو نوجوانی کے خوابوں کو روشنی دیتی ہے اور کبھی کبھی آنکھوں میں نمی بھی بھر دیتی ہے۔
وقت آگے بڑھا تو اسی محبت نے ایک دن شادی کی صورت اختیار کر لی، اور زندگی ایک نئے باب میں داخل ہو گئی۔
مگر یونیورسٹی صرف محبت اور کتابوں کا نام نہیں تھی۔ وہاں سیاست بھی تھی، نظریات بھی تھے اور وہ خواب بھی جو نوجوانوں کے دلوں میں انقلاب کی صورت دھڑکتے ہیں۔ میں بھی اس قافلے کا مسافر بن چکا تھا۔
طلبہ تنظیم کی سیاست میں قدم رکھا تو معلوم ہوا کہ نظریہ صرف تقریروں سے زندہ نہیں رہتا، اس کے لیے قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔ ہم نے جلسے بھی کیے، جلوس بھی نکالے اور احتجاج بھی کیا۔ سچ بولنے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے جو واجب بھی نہیں تھے۔
ظالم حکمرانوں کو ہر دور میں نوجوانوں کی آواز خطرناک لگتی ہے۔ اسی لیے ایک دن ہتھکڑیوں کی ٹھنڈی زنجیر میرے ہاتھوں میں بھی ڈال دی گئی۔
جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزرا ہوا وقت زندگی کا وہ باب ہے جسے شاید میں کبھی بھلا نہ سکوں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ سلاخیں جسم کو قید کر سکتی ہیں، خیالات کو نہیں۔
جیل کی تنگ کوٹھری میں بیٹھ کر میں نے سوچا کہ دنیا کتنی تیزی سے بدل رہی ہے۔ باہر کی دنیا میں نئی نئی ٹیکنالوجی جنم لے رہی تھی اور میں اندر قیدی بن کر اپنے خوابوں کو لفظوں میں ڈھال رہا تھا۔ انہی قید و بند کے لمحات نے میرے اندر ایک لکھاری کو جنم دیا۔
آج 2026 کا زمانہ ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل انقلاب کے عہد میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر جب میں ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نظر نہیں آتی۔
مجھے وہ سینما ہال یاد آتے ہیں جہاں خواب بڑے پردے پر دکھائی دیتے تھے۔ مجھے یونیورسٹی کے وہ دن یاد آتے ہیں جب ایک نوجوان دل پہلی بار محبت کے راز سے آشنا ہوا تھا۔ مجھے وہ جلسے یاد آتے ہیں جہاں سچ بولنے کی جرات سکھائی جاتی تھی۔
اور مجھے وہ سلاخیں بھی یاد آتی ہیں جہاں یہ سیکھا کہ ظلم ہمیشہ عارضی ہوتا ہے، مگر قربانی ہمیشہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔
ہماری نسل نے اینالاگ دنیا سے ڈیجیٹل دنیا تک کا سفر دیکھا ہے۔ مگر اس طویل سفر میں ایک چیز آج بھی نہیں بدلی: انسان کے خواب۔
وہی خواب جو کبھی سینما اسکرین پر چمکتے تھے اور آج موبائل اسکرین پر۔ مگر خواب اب بھی خواب ہی ہیں، اور شاید انسان کی اصل طاقت بھی یہی خواب ہیں۔
مگر اس عہد میں بے چہرگی کچھ زیادہ ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس بے چہرگی کے پردے کو چاک کر سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کریں، اپنے اندر کی آواز کو سنیں اور ایک سچے انسان کے طور پر جینے کا عزم کریں۔
یہی عزم ہمیں اس دھند سے نکال کر ایک واضح، روشن اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔