رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے!

تحریروں میں اچھی باتیں لکھنے والا رائٹر ضروری نہیں عملی زندگی میں بھی اچھا آدمی ثابت ہو بہت سے مشہوررائٹر دیکھے ہیں جو رائٹر تو بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں جو اپنی تحریروں میں نفاست پاکیزگی ا حساس و جذبات سے بریزالفاظ و جملوں پر مبنی منظر کشی سے قارئین کی رُوح کو چھو لیتے ہیں گمان ہوتا ہے آسمان سے اترے منظر ہیں مگر وہ ذاتی زندگی میں غیر معیاری گفتگو کرتے ہیں ایک آدمی کے اندر بہت سے آدمی ہوتے ہیں پرتیں ہٹنے یا ہٹانے والے حالات کا سامنا ہو تو پتا چل جاتا ہے۔تین طرح کے لکھاری دریافت ہوئے ہیں ایک جیسا لکھتے ہیں ویسے ہی خود ہوتے ہیں۔دوسراجیسا لکھتے ہیں اُس سے بلکل مختلف ہوتے ہیں تیسرے جو ملے جھلے سے ہیں۔
سینکڑوں الفاظ بغیر غلطی کے تاثیر سے لبریز لکھنے والے رائٹر خوش بیانی میں ناکام ہوتے ہیں چندجملے کیفیت آمیز لب و لہجے سے لوگوں کے سامنے نہیں بول سکتے اس کے برعکس ایک اداکار جو رائٹر نہیں مگر ایک رائٹر کے جملوں سے ادکاری میں لفطی بیانی کے زریعے انسانی اعصاب پر گہرا اثر چھوڑ دیتے ہیں۔باکرداررائٹرز بہت کم ہیں جو جیسا لکھتے ہیں ویسا بولتے بھی ہیں عام زندگی میں بھی اپنی تحریروں جیسا جیتے ہیں۔دوسرے درجے کے رائٹر جن کی شاعری و تحریروں میں انسانی قدروں کی اعلیٰ ترجمانی ملتی ہے مگر ذاتی طور پر وہ لالچی بدزبان بے فیض ہوتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کے دماغ کا ایک قلمی حصہ خوبصورت ہے اور باقی عملی حصہ غیر معیاری ہے لگتا ہے ساری اچھائی قلم کے زریعے کاغذ پر اتار کر عام زندگی میں اچھائی سے خالی ہوجا تے ہیں ان کا خلوص مفاداتی مال و شہرت کی غرض پر ہے یعنی مصنوعی حسن سلوک کی اداکاری کرتے ہیں یہ فنکار بڑے ہیں مگر آدمی چھوٹے ہیں کیمرے کے سامنے بہت متاثر و قیمتی اداکاری کرتے ہیں مگر خدا کے کیمروں کے سامنے اس کی مخلوق سے عملی طور پر بڑے آدمی کے احسا س میں چھوٹے سلوک کرتے ہیں انسانوں میں اداکار بہت ہیں مگر اداکاروں میں انسان بہت کم ملتے ہیں ہر شخص نے اچھائی کا ایک اپناطریقہ اور مقدار مقرر کی ہوتی ہے جو نسلی خصلت کا تعارف ہے کچھ لوگ صرف اتنے ہی اچھے رہتے ہیں کہ ان سے کسی کو فائدہ نہیں مگر نقصان بھی نہیں پہنچ رہا وہ اسی پر مطمن ہیں۔ کچھ بڑی برداشت وہمت کا ظرف رکھتے ہیں فائدہ دے کر نقصان اپنے اعمال نامے میں صلے کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں اس عمل کے اجر کا حسن میرے حسن بیان سے باہر ہے کیونکہ یہ خدائی معاملہ بن جاتا ہے۔
فن فروش انسان کسی کو مفت میں میسر ہونا خسارہ سمجھتے ہیں شہرت سے دنیا کمانے والوں کو انسانیت کمانے کے گمان میں لانے سے پہلے انہیں معاملات کے ترازو میں تول لیں تاکہ ان کی بات اور ذات کا تضاد واضع ہو سکے۔ادکاری کے ذریعے معاشرے میں مصنوعی رنگ بھرنے سے نام تو کمایا جا سکتا ہے مگر اجر نہیں کیونکہ حقیقی کردار نبھانے سے بلند وقار اوراعلیٰ معیار میسر ہوتا ہے ایسے باکردار لوگوں کے مرنے کے بعد بھی ان کے نیکیاں لکھنے والے فرشتوں کو چھٹی نہیں ملتی۔علم کے سمندر سے عمل کا قطرہ زیادہ قیمتی ہے یہ دنیا بڑی حیرت ناک و پراسرار ہے یہاں اکثریت میں اچھائی کے پیچھے کمائی چھپی ہے جن کا نظریہ یہ ہے کہ پیسا ہو چاہے جیسا ہو۔میرے نزدیک دنیا کی دولت خدا کا انسانی ایمان و معیارچیک کرنے والا ایک ٹیسٹر ہے جیسے انسان بھی استعمال کرکے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔
انسان ہو کر انسانیت کمانا ہی اصل خدائی کمائی ہے بے وقعت کر دینے والی دولت کے تالاب میں غوطے کھا کر مرنے سے بہتر ہے غربت کی زمین پر خودداری کے فاقوں میں سینہ تان کر جیا جائے یہ حیات خودداری بڑے لوگوں کا انتخاب ہوتا ہے جو چھوٹے فن کو بھی منتخب کرتے ہیں تو اسے عزت دلا دیتے ہیں ورنہ زیادہ تر چھوٹے لوگ بڑے فن کا انتخاب کرکے اُس فن کی عزت کا لباس پہنے پھرتے ہیں ان سے جب انسانی حسن سلوک کا واسطہ پڑتا ہے تونتیجہ افسوس نکلتا ہے چھوٹا آدمی بڑے فن کو بھی چھوٹابنا دیتاہے اوربڑا آدمی چھوٹے فن کو بھی بڑا بنا دیتا ہے۔بڑا آدمی بڑے فن سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے گزر جانے کے بعد بھی ان کی تخلیق زمانے میں ٹھہری رہتی ہے۔عام لوگ وقت تخلیق میں محدود وقت کے لیے خاص ہو جاتے ہیں یعنی جب وہ تخلیق کرتے ہیں تو وہ وہ نہیں ہوتے جو عام وقت میں ہوتے ہیں اسی لیے عام وقت میں انہیں ملیں تو دوسرا شخص پاتے ہیں عزت دلانے والا عمل عاجزی کا تقاضا کرتا ہے مگر جب عاجزی کی بجائے غرور تکبر بدسلوکی پاتا ہے تو آسمانی فضاؤں میں اُڑنے والے کو زمینی پستیوں پہ لا کھڑا کر دیتا ہے یہی وجہ ہے اکثر شہرت پانے والے لوگ گمنامی میں نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں جو وقت شہرت میں احترام انسانیت بھول کر لوگوں کا مزاق اُڑایا کرتے تھے وہ مرگ بسترپر آتے ہی آنسوؤں سے باتیں کرتے امداد کے طلبگار ہوجاتے ہیں کتنے ہی ایسے شہکار تھے جنہیں زمین کا معدہ پانی کی طرح پی گیا اور زمانہ دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ گیا۔اور کئی ایسے بڑے تخلیق کا رجوساری زندگی فن فروشی سے بچتے ہوئے فاقوں میں زندگی گزار گئے ان کے چلے جانے کے بعد ان کی تخلیقات نے ان کو ایسا زندہ کیا کہ لوگ انہیں مل نہ سکنے پر پچھتا تے ہیں۔ رائٹرکو اپنی تحریروں جیسا توہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *