شکست خوردہ دشمن پر نظر


تحریر۔نظام الدین

10 مئی 2026 پاکستان بھر میں “معرکۂ حق” (آپریشن بنیانِ مرصوص) میں بھارت کے خلاف حاصل ہونے والی تاریخی فتح کی پہلی سالگرہ انتہائی جوش و خروش سے منائی گئی۔ اس سلسلے میں جی ایچ کیو (GHQ) راولپنڈی میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی، جس میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارتوں کا جشن منایا گیا۔ تقریب میں مسلح افواج کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں دشمن کے خلاف اس عظیم کامیابی پر سجدۂ شکر ادا کیا گیا اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ پاکستانی قوم اور میڈیا نے شہدا کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کے اس منہ توڑ جواب کو بھرپور سلام پیش کیا۔
یاد رہے کہ یہ معرکہ مئی 2025 کے اوائل میں بھارتی اشتعال انگیزی کے بعد پیش آیا تھا، جس میں پاکستان نے “ملٹی ڈومین وارفیئر” میں دشمن کو مؤثر جواب دیتے ہوئے اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس جنگ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ اب معرکے صرف بارود، میزائلوں اور ٹینکوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک خاموش مگر نہایت طاقتور محاذ، یعنی “ڈیجیٹل دنیا”، بھی جنگ کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسی بساط ہے جہاں ڈیٹا، الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت (AI) فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت جدید جنگی حکمتِ عملی کو کئی اہم طریقوں سے تبدیل کر رہی ہے۔ سیٹلائٹس، ڈرونز اور جدید انٹیلی جنس سسٹمز کے ذریعے دشمن کی ہر نقل و حرکت پر عقابی نظر رکھی جا رہی ہے۔ AI لاکھوں تصاویر اور سگنلز کا چند لمحوں میں تجزیہ کرکے یہ معلوم کر سکتی ہے کہ کہاں فوجی نقل و حرکت ہو رہی ہے اور کہاں ہتھیاروں کے ذخائر موجود ہیں۔ یہی ٹیکنالوجی ایٹمی مراکز، فوجی اڈوں اور میزائل تنصیبات کی نگرانی اور حفاظت کے لیے بھی ڈھال کا کردار ادا کر رہی ہے۔ خفیہ کوڈز اور حساس ڈیٹا کا تجزیہ بھی اسی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنایا جا رہا ہے۔ جنگ کا ایک اور خطرناک اور خاموش پہلو “سائبر وارفیئر” ہے۔ اس کے ذریعے کمپیوٹر سسٹمز، بجلی کے گرڈز، بینکاری نیٹ ورک اور حتیٰ کہ دفاعی تنصیبات کو ہیک کرکے مفلوج کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں ایٹمی پروگراموں کو نقصان پہنچانے کے لیے پیچیدہ سافٹ ویئر استعمال کیے گئے تھے، مگر اب AI ان حملوں کو زیادہ تیز رفتار، خودکار اور تباہ کن بنا رہی ہے۔ یعنی حملہ آور میدانِ جنگ میں قدم رکھے بغیر بھی پورے ملک کو معذور کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ خودکار ہتھیار اور روبوٹکس بھی اب کسی سائنسی افسانے کا حصہ نہیں رہے۔ ایسے ڈرونز اور روبوٹک ہتھیار، جو خود فیصلہ کر سکیں کہ کب اور کہاں حملہ کرنا ہے، جدید جنگی دنیا کی خوفناک حقیقت بن چکے ہیں۔ انسانی مداخلت کے بغیر ہدف کی شناخت اور حملے کی صلاحیت جنگ کی رفتار کو اس حد تک بڑھا دیتی ہے کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ یہاں ایک معمولی تکنیکی خرابی یا “کوڈنگ ایرر” بھی کسی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔ نفسیاتی جنگ اور پروپیگنڈا بھی اب جدید جنگ کا اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ سوشل میڈیا، جعلی خبریں اور “ڈیپ فیک” ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی ویڈیوز اور تصاویر تخلیق کی جاتی ہیں جو بظاہر مکمل طور پر حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ ان کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا، معاشرے میں انتشار پیدا کرنا اور دشمن کو نفسیاتی طور پر کمزور کرنا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ “ڈیجیٹل جنگ” کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر جاری ہے۔ امریکہ، روس، چین، اسرائیل اور ایران سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں اس میدان میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ سائبر صلاحیتوں اور ڈرون ٹیکنالوجی میں ہونے والی تیز رفتار ترقی یہ ثابت کر رہی ہے کہ مستقبل کے تنازعات میں وہی ملک کامیاب ہوگا جس کا ٹیکنالوجی پر زیادہ کنٹرول ہوگا۔ مستقبل کی جنگیں اس لیے زیادہ ہولناک ہو سکتی ہیں کیونکہ ان میں انسان کا کردار کم اور مشینوں کا کردار زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ جب فیصلے الگورتھمز کریں گے تو جذبات، اخلاقیات اور انسانی ہمدردی پسِ پشت چلی جائیں گی۔ آنے والے وقت میں جنگیں سرحدوں پر نہیں بلکہ “سرورز” میں لڑی جائیں گی، جہاں بارود سے زیادہ “کوڈ” استعمال ہوگا۔
سوال یہ نہیں کہ اگلی جنگ کب ہوگی، سوال یہ ہے کہ جب مشینیں زندگی اور موت کے فیصلے کرنے لگیں گی تو انسان کہاں کھڑا ہوگا؟ آنے والی دنیا میں طاقت کا اصل معیار روایتی اسلحہ نہیں بلکہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت ہوگی۔ اگر جنوبی ایشیا کے حالیہ حالات، بھارت کی نئی عسکری حکمتِ عملی، میڈیا بیانات، دفاعی تجزیوں اور عسکری اصلاحات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت مستقبل میں پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے بجائے جدید ٹیکنالوجی اور ہائبرڈ وارفیئر کو زیادہ استعمال میں لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ممکن ہے کہ براہِ راست ٹینکوں اور توپوں کے بجائے سوشل میڈیا پر نفسیاتی جنگ، جعلی خبریں، فرقہ وارانہ اشتعال، لسانی تقسیم، سیاسی انتشار اور معاشی بے چینی جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی جائے، تاکہ کھلی جنگ کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
بھارت اب مکمل جنگ کے بجائے محدود، تیز رفتار اور ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی حکمتِ عملی پر غور کر رہا ہے۔ مختلف دفاعی ادارے اور تھنک ٹینکس بھی اس موضوع پر مسلسل تحقیق اور تجزیے پیش کر رہے ہیں۔
آخر میں ایک حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جنگ میں وقتی فتح یقیناً اہم ہوتی ہے، مگر اصل کامیابی وہ قوم حاصل کرتی ہے جو فتح کے بعد بھی ہوشیار، متحد، معاشی طور پر مضبوط اور ذہنی طور پر تیار رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *