​عرس زندہ پیر: زائرین کی جان و مال خطرے میں، انتظامیہ کی خاموشی پر سوالات۔

​ٹرائبل ایریا میں بدامنی کا راج: زندہ پیر کے قریب ڈکیتی کی بڑی واردات، زائرین لٹ گئے
​بی ایم پی فورس کی نااہلی؟ مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شخص زخمی، ڈاکو مال و زر سمیٹ کر فرار
​عرس زندہ پیر پر سیکیورٹی کے ناقص انتظامات؛ جام پور کے رہائشی لٹیروں کا نشانہ بن گئے
​احمد راجپوت کی خصوصی رپورٹ: ہر سال زائرین لٹتے ہیں، مگر انتظامیہ خوابِ خرگوش میں مصروف

​ڈیرہ غازی خان ( چوہدری احمد راجپوت)

ٹرائبل ایریا کے علاقے زندہ پیر میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوگئی۔ بی ایم پی (Border Military Police) فورس کی حدود میں ڈکیتی کی ایک سنگین واردات کے دوران ڈاکوؤں نے زائرین سے تین عدد موٹر سائیکلیں، چھ موبائل فون اور بھاری نقدی چھین لی۔ واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر ڈاکوؤں نے فائرنگ کر کے ایک مسافر کو شدید زخمی کر دیا، جس کا تعلق جام پور سے بتایا جا رہا ہے۔

​واضح رہے کہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی سلسلے میں واقع “زندہ پیر” کے مقام پر سالانہ عرس کی تقریبات فروری سے شروع ہو کر اپریل تک جاری رہتی ہیں۔ ملک بھر سے ہزاروں زائرین اس میلے میں شرکت کے لیے کھینچے چلے آتے ہیں۔ رواں سال مارچ میں رمضان المبارک کی آمد کے باعث زائرین کی بڑی تعداد وقت سے پہلے عرس پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن راستوں میں تحفظ کا کوئی نام و نشان نہیں۔

​مقامی صحافی اور کالم نگار احمد راجپوت کے مطابق، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہر سال عرس کے موقع پر ڈاکو سرگرم ہو جاتے ہیں اور دور دراز سے آنے والے غریب مسافروں کو لاکھوں روپے کے اثاثوں سے محروم کر دیتے ہیں۔ عوام کا سوال ہے کہ بی ایم پی فورس اور مقامی انتظامیہ ان پہاڑی راستوں پر مؤثر گشت اور سیکیورٹی فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہے؟

​زائرین اور مقامی شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوراً زخمی مسافر کو انصاف فراہم کیا جائے اور عرس کے پورے سیزن کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں تاکہ کوئی دوسرا گھرانہ لٹنے سے بچ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *