انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ (IHRM) نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے کے تحت ڈاکٹر قطر الندا عزیز دادوش السعد کو عراق کے لیے صدر منتخب کر لیا ہے۔ یہ تقرری آئندہ تین (3) سال کے لیے کی گئی ہے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ایک عالمی، خودمختار اور غیرجانبدار انسانی حقوق کی تنظیم ہے جو دنیا کے ساٹھ (60) سے زائد ممالک میں فعال ریجنز کے ذریعے اور ایک سو ساٹھ (160) ممالک میں بلا امتیاز رنگ، نسل، مذہب، زبان اور قومیت، صرف اور صرف انسانیت کی خدمت کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ تنظیم دنیا بھر میں مظلوم، کمزور اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی ایک نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ تنظیم کسی بھی آرگنائزیشن، ادارے، حکومت یا شخصیت سے چندہ، صدقہ یا خیرات وصول نہیں کرتی، بلکہ مکمل طور پر اپنی خودمختار پالیسی اور اصولوں کے تحت انسانی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس عالمی انسانی حقوق کی تحریک کے مرکزی چیئرمین رانا بشارت علی خان ہیں، جو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر آواز سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی قیادت میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ آج دنیا کی سب سے طاقتور اور مؤثر انسانی حقوق کی تنظیموں میں شمار کی جاتی ہے، جو عالمی فورمز پر انسانی وقار، انصاف اور امن کے لیے بے خوف آواز بلند کر رہی ہے۔
اس موقع پر رانا بشارت علی خان نے کہا کہ ڈاکٹر قطر الندا عزیز دادوش السعد ایک باصلاحیت، تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہیں، جو قیادت کی مکمل اہلیت رکھتی ہیں۔ ان کی تقرری عراق میں انسانی حقوق، خواتین کے تحفظ اور سماجی انصاف کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ خواتین کو قیادت میں آگے لانے، مظلوم اقوام کے حقوق کے تحفظ اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنے مشن پر ثابت قدم ہے، اور عراق کے لیے صدر کی حیثیت سے ڈاکٹر قطر الندا عزیز دادوش السعد کی تقرری اسی وژن کا عملی اظہار ہے۔
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ عراق سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کے فروغ، انصاف کی بالادستی اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی جدوجہد پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔