ٹھٹہ میں شٹر بند ہڑتال، بھرپور عوامی ردِعمل

پی ٹی آئی کے ضلعی صدر سمیت دو رہنما گرفتار، مکلی بائی پاس پر دھرنا، قومی شاہراہ بلاک
ٹھٹہ (ڈسٹرکٹ رپورٹ: ایم اعجاز چانڈیو مہرانوی)
تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر ضلع ٹھٹہ بھر میں شٹر بند ہڑتال کو بھرپور عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ٹھٹہ شہر، مکلی، گھارو، دھاٻیجی، لیٹ میرپور ساکرو، جھمپیر سمیت ضلع کے مختلف شہروں میں تمام تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے، جس کے باعث معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے۔
ٹھٹہ شہر کی شاہی بازار سمیت تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر غیر معمولی سناٹا چھایا رہا۔ ہڑتال کے دوران شہریوں اور سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد نے احتجاج میں حصہ لیا۔
دوسری جانب ٹھٹہ اور مکلی پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف ضلع ٹھٹہ کے صدر سید امجد شاہ اور ضلعی رہنما ظہیر شاہ کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف سیاسی جماعتوں اور کارکنان میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ملک میں گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے مکلی بائی پاس پر احتجاجی دھرنا دیا، جس کے نتیجے میں ٹھٹہ-کراچی قومی شاہراہ مکمل طور پر بلاک ہو گئی۔
یہ دھرنا سندھ یونائیٹڈ پارٹی (SUP) کے ضلعی صدر عمران خشک، پی ٹی آئی رہنما ہوش محمد عباسی، جی ڈی اے کے رہنما شاہنواز بروہی، عرفان مانکانی اور دیگر کی قیادت میں دیا گیا، جس میں سینکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔
مظاہرین نے پولیس اور حکومتی اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ قومی شاہراہ کی بندش کے باعث مسافر گاڑیوں اور مال بردار ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سیاسی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، مبینہ انتخابی دھاندلیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *