پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا سخت کارروائی کا مطالبہ
عدالتی احکامات کے باوجود ڈاکٹروں کے الاؤنسز میں کٹوتیاں توہینِ عدالت ہیں؛ پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک
لاہور ( محمد منصور ممتاز سے )
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر شاہد ملک نے ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر لیہ اور ڈیرہ غازی خان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں اکاؤنٹس آفیسرز بغیر کسی قانونی اختیار کے سرکاری ڈاکٹروں کے الاؤنسز میں کٹوتیاں کر رہے ہیں، جس کے باعث ان اضلاع میں خدمات انجام دینے والے متعدد میڈیکل افسران کی تنخواہیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کے جائز اور منظور شدہ الاؤنسز من مانے طریقے سے کاٹ کر انہیں صرف پچاس سے ساٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، جو آئینِ پاکستان کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس غیر قانونی اقدام سے ڈاکٹروں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور صوبے کے صحت کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
پروفیسر شاہد ملک نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بینچ، جسٹس ساجد محمود سیٹھی، پہلے ہی واضح اور تحریری احکامات جاری کر چکے ہیں کہ سرکاری ڈاکٹروں کے الاؤنسز میں کسی قسم کی کٹوتی نہ کی جائے، مگر اس کے باوجود ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر لیہ اور ڈیرہ غازی خان عدالتی احکامات کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے غیر قانونی کٹوتیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف ڈاکٹروں کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے بلکہ عدالتِ عالیہ کے احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور توہین کے زمرے میں آتا ہے، جس پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے متعلقہ اکاؤنٹس آفیسرز کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔
صدر پی ایم اے نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور ڈی جی آڈٹ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دونوں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسرز کو معطل کیا جائے، ان کی تنخواہیں بند کی جائیں اور ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ آئندہ کوئی بھی اکاؤنٹس آفیسر اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈاکٹروں کے جائز الاؤنسز فوری بحال نہ کیے گئے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہوا تو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن احتجاج سمیت تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔