شہر میں آٹا 140 روپے کلو، دیہات میں 125 روپے؛ سرکاری نرخنامہ غائب، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس دفاتر تک محدود
آڑھتیوں نے گندم مہنگی کر دی، انتظامیہ فون اٹھانے کو تیار نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب فوری نوٹس لیں: عوامی دہائی
(ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد ڈیلی جستجو۔ نیوز سے
ڈیرہ غازی خان ،یاروکھوسہ اور گردونواح میں آٹے کی قیمتوں کو پر لگ گئے، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی مبینہ غفلت اور مجرمانہ خاموشی نے عوام کو گراں فروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ شہر میں آٹا 140 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جبکہ مضافاتی علاقوں میں بھی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ افسر شاہی کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ عوامی شکایات کے باوجود کوئی فیلڈ میں نکلنے کو تیار نہیں۔
تفصیلی صورتحال اور نرخوں کا فرق:
ذرائع کے مطابق ڈی جی خان شہر میں چکی کا آٹا 140 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جبکہ یارو کھوسہ، کوٹ مبارک، چھابری بالا، پیر عادل اور شاہ صدر دین جیسے دیہی علاقوں میں قیمت 125 روپے فی کلو (5000 روپے من) تک پہنچ چکی ہے۔ قیمتوں کے اس تضاد نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ غریب دیہاڑی دار مزدور، جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کا شکار ہیں، اب دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
چکی مالکان کا چونکا دینے والا مؤقف:
نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے یارو کھوسہ اور دیگر علاقوں کے چکی مالکان نے اصل حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ آڑھتیوں نے گندم کا مصنوعی بحران پیدا کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ “آڑھتی عام شہریوں کو گندم 4600 روپے من دیتے ہیں، لیکن جب ہم (چکی والے) خریدنے جاتے ہیں تو ہمیں 4800 سے 5000 روپے من ریٹ دیا جاتا ہے۔” چکی مالکان کا کہنا ہے کہ انہیں آج تک اسسٹنٹ کمشنر آفس یا فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی سرکاری ریٹ لسٹ موصول نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی کسی افسر نے فیلڈ میں آ کر چیکنگ کی زحمت کی۔
عوام کی بے بسی اور دہائیاں:
آٹا خریدنے آئے شہریوں اللہ وسایا عمرانی، عابد خان اور دیگر نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ “ہم سارا دن مزدوری کرتے ہیں لیکن شام کو آٹا خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ بچوں کا پیٹ پالنا محال ہو گیا ہے۔” شہریوں نے الزام عائد کیا کہ آڑھتیوں اور ضلعی افسران کے درمیان مبینہ “مک مکا” ہے جس کی سزا غریب عوام بھگت رہے ہیں۔
افسر شاہی کا رویہ:
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوڈ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور اے سی آفس کے نمبروں پر بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن افسران فون اٹھانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ فیلڈ چیکنگ صفر ہونے کی وجہ سے گراں فروشوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
مطالبات:
اہالیانِ ڈیرہ غازی خان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کمشنر ڈی جی خان سے مطالبہ کیا ہے کہ:
ذخیرہ اندوز آڑھتیوں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کیا جائے۔
چکیوں کے لیے گندم کے نرخ اور آٹے کی قیمت کا سرکاری نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
دفاتر میں بیٹھ کر سب اچھا کی رپورٹ بھیجنے والے مجسٹریٹس کا محاسبہ کیا جائے۔
تصویری جھلکیاں: (خبر کے ساتھ منسلک تصاویر میں چکیوں پر موجود خریداروں کی پریشانی اور چکی مالکان کے احتجاجی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں)۔
“ڈی جی خان: چکی پر آٹے کے نرخ سن کر شہری پریشان کھڑے ہیں، جبکہ چکی مالک گندم کی مہنگی خریداری کا رونا روتے ہوئے