ڈیرہ غازی خان سکھانی کالونی میں زناو منشیات اڈے خون خرابے میں تبدیل، نوجوان زخمی — پولیس کی خاموشی پر سوالات ؟

ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد ڈیلی جستجو کی رپورٹ )
سکھانی کالونی کی دو گلیاں مبینہ طور پر منشیات اور جسم فروشی کا گڑھ بن گئیں
پیسوں کے تنازع پر نوجوان پر چھریوں کے وار
زخمی نوجوان کا تعلق راجن پور سے بتایا جا رہا ہے
اہل علاقہ خوفزدہ، تھانہ گدائی اور چوکی لاری اڈا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
شہریوں کا ڈی پی او ڈی جی خان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ
مبینہ طور پر سرگرم افراد کے نام سامنے آ گئے
ڈیرہ غازی خان شہر کی سکھانی کالونی میں مبینہ طور پر قائم منشیات اور جسم فروشی کے اڈوں نے صورتحال کو خطرناک رخ دے دیا ہے، جہاں حالیہ واقعے میں ایک نوجوان کو چھریوں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سکھانی کالونی کی دو مخصوص گلیاں کافی عرصے سے غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک نوجوان نشہ آور اشیاء کے حصول کے لیے وہاں پہنچا، تاہم رقم کم ہونے پر تلخ کلامی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے خونریز جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔ اڈے کے باہر موجود مبینہ ڈیلر نے نوجوان پر چھریوں سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی نوجوان کا تعلق راجن پور سے بتایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ کوئی ٹرائبل ایریا نہیں بلکہ شہر کے مرکزی لاری اڈہ روڈ کے قریب واقع ہے، اس کے باوجود کھلے عام منشیات کا کاروبار جاری رہنا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
اہل علاقہ نے تھانہ گدائی کے ایس ایچ او اور پولیس چوکی لاری اڈا کے انچارج کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ اڈے مزید جانیں لے سکتے ہیں۔
مقامی شہریوں نے بعض مبینہ کرداروں کے نام بھی بتائے ہیں اور الزام عائد کیا ہے کہ یہ عناصر نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
شہریوں نے ڈی پی او ڈیرہ غازی خان صادق بلوچ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں، علاقے میں چھاپے مارے جائیں، منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور نوجوانوں کی زندگیاں بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کب تک یہ موت کے سوداگر اپنا کاروبار جاری رکھیں گے اور ماؤں کی گود اجڑتی رہے گی؟
رپورٹ: ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد راجپوت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *