تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
تحصیل مسلم باغ کے عوام کا بنیادی اور تقریباً واحد ذریعۂ معاش کرومائیٹ (Chromite) کی کان کنی ہے۔ اس علاقے میں دیگر کاروباری مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، اور یہاں کے لوگوں کا روزگار انہی پہاڑوں سے وابستہ ہے۔ صدیوں سے، آبا و اجداد کے دور سے لے کر آج تک، مسلم باغ کے باشندے نہایت مشقت اور دشواری کے ساتھ ان پہاڑوں کو چیر کر اپنے خاندانوں کا پیٹ پال رہے ہیں، اور سینکڑوں گھروں کے چولہے انہی وسائل سے روشن ہیں۔
ہائی کورٹ بلوچستان کے واضح احکامات اور فیصلوں میں یہ بات شامل ہے کہ PCM کے تحت آنے والی کانوں کی لیز مقامی یعنی مسلم باغ کے شہریوں کو دی جائے۔ مزید برآں، عدالت نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ مقامی افراد پر مشتمل ایک مشترکہ کمپنی تشکیل دی جائے، جس میں مسلم باغ کی تمام اقوام کی نمائندگی ہو، اور اسی پلیٹ فارم کے ذریعے کانوں کی لیز دی جائے۔
تاہم، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان واضح عدالتی احکامات کے برعکس، غیر مقامی افراد کو محض مالی وسائل اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر مسلم باغ کے پہاڑوں میں واقع PCM کی کرومائیٹ کانوں کی لیز دے دی گئی ہے، جو کہ مقامی عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
اس موقع پر متعلقہ افراد سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ ان لیز کو فوری طور پر واپس لیں یا منسوخ کریں، تاکہ مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ بصورتِ دیگر، مسلم باغ کے عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن آئینی و قانونی فورم سے رجوع کریں گے، چاہے وہ ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ۔
ہم علاقے کی تمام سیاسی جماعتوں، تنظیموں، قبائلی و سماجی شخصیات، ملک و سردار حضرات اور مشران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوں اور ایک مضبوط، مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں، جس میں تمام اقوام کی نمائندگی شامل ہو۔ اس اجتماعی جدوجہد کے ذریعے ہی ان بااثر عناصر کے خلاف مؤثر آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔
آخر میں، یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا اور لیز منسوخ نہ کی گئی، تو مسلم باغ کے عوام بھرپور اور پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔