تحریر: محمد منصور ممتاز
کبھی کبھی ایک تصویر پورے نظام کی کہانی سنا دیتی ہے۔ لاہور کے ایک تھانے سے سامنے آنے والی وہ تصویر بھی ایسی ہی تھی ۔۔۔ ایک نوجوان کو بازوؤں میں ڈنڈا پھنسا کر چھت سے لٹکایا گیا، اس کی بہن بے بسی کی تصویر بنی کھڑی ہے، اور ایک پولیس اہلکار سکون سے صوفے پر نیم دراز ہے۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں، یہ ہماری حقیقت ہے… اور یہی حقیقت سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ اس نظام کی تصویر ہے جس میں طاقت کو قانون پر فوقیت حاصل ہو چکی ہے۔ میں جب اس منظر کو دیکھتا ہوں تو میرے اندر ایک سوال بار بار جنم لیتا ہے ۔۔۔ آخر یہ جرات کہاں سے آتی ہے؟ کون سا اعتماد ہے جو ایک وردی والے کو اس حد تک بے خوف کر دیتا ہے کہ اسے نہ قانون کا خوف ہوتا ہے، نہ خدا کا؟
میرے نزدیک اس کا جواب سادہ بھی ہے اور خوفناک بھی۔ یہ جرات ایک ایسے نظام سے جنم لیتی ہے جہاں احتساب کمزور ہو چکا ہو، جہاں سزا کا تصور محض کاغذی ہو، اور جہاں اختیار رکھنے والا خود کو جواب دہ نہ سمجھے۔ جب ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے، جب مظلوم کی فریاد دب جائے، تو پھر ظلم صرف ایک عمل نہیں رہتا، وہ ایک روایت بن جاتا ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے واقعات پر ہم وقتی ردِعمل دیتے ہیں۔ شور مچتا ہے، معطلیاں ہوتی ہیں، بیانات آتے ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی ہم نے اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ کیا ہم نے یہ سوچا کہ یہ سب بار بار کیوں ہو رہا ہے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں کمزور سب سے آسان ہدف ہوتا ہے۔ جب کسی بااثر شخص کے گھر میں کوئی واردات ہو تو شک کی سوئی فوراً ان لوگوں کی طرف گھومتی ہے جو پہلے ہی بے اختیار ہوتے ہیں۔ ایسے میں دباؤ بڑھتا ہے، اور یہی دباؤ پولیس کو ایسے راستوں پر لے جاتا ہے جہاں قانون کی جگہ تشدد لے لیتا ہے۔ مگر کیا دباؤ ظلم کا جواز بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
اور سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اکثر کارروائی اس وقت ہوتی ہے جب معاملہ منظر عام پر آ جائے۔ دل یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتا کہ سزا اس ظلم پر دی جاتی ہے، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل “قصور” یہ ہوتا ہے کہ ظلم کی تصویر باہر کیسے آ گئی۔
میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ نوکری سے نکال دینا یا معطلی جیسے اقدامات اس مسئلے کا حل نہیں۔ یہ وقتی فیصلے ہیں، جن کا انجام بھی وقتی ہوتا ہے۔ اگر واقعی اس نظام کو بدلنا ہے تو ہمیں سزا کے تصور کو بدلنا ہوگا، ہمیں انصاف کو فوری اور مؤثر بنانا ہوگا۔
میری رائے میں اب وقت آ چکا ہے کہ ریاست ایسے واقعات کے لیے ایک خصوصی، تیز رفتار اور بااختیار عدالتی نظام قائم کرے۔ ایسا نظام جہاں وردی کے پیچھے چھپ کر ظلم کرنے والوں کو فوری انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور جہاں سزا صرف سزا نہ ہو بلکہ ایک مثال بنے ۔۔۔ ایسی مثال جو آئندہ کسی کو اس درندگی کی جرات نہ کرنے دے۔
یہ کوئی انتقام کی بات نہیں، یہ انصاف کی بات ہے۔ کیونکہ اگر قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑنے لگیں تو پھر معاشرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔
یہ تصویر ایک لمحے کی نہیں، ایک پیغام ہے۔ ایک وارننگ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ بدلا تو کل ایسی اور تصاویر ہمارا مقدر بن جائیں گی۔ اور تب شاید ہم صرف افسوس ہی کر سکیں گے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم وقتی ردِعمل سے آگے بڑھیں، اور ایک ایسا مستقل حل تلاش کریں جو نہ صرف ظلم کو روکے بلکہ انصاف کو ایک زندہ حقیقت بنا دے۔ کیونکہ معاشرے اس وقت نہیں ٹوٹتے جب ظلم ہوتا ہے، بلکہ اس وقت ٹوٹتے ہیں جب ظلم کے خلاف نظام خاموش ہو جائے۔