ہفتہ وار ’’جمعہ اور پیر کی چھٹی‘‘، اہم خبر آ گئی

کراچی (نیوز ڈیسک)وزیراعظم کفایت شعاری منصوبے کے تحت جمعہ اور پیر کی ہفتہ وار تعطیل کی تجویز بھی سامنے آ گئی ہے۔

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی بحران نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور حکومت اس سے نمٹنے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں ایک بازار اور تمام کاروبار رات 8 بجے بند کرانا بھی شامل ہے۔

تاہم پاکستان بزنس فورم کی جانب سے جاری بیان میں کاروبار رات 8 بجے بند کرنے کے حکومتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کاروبار کے اوقات کام کرنے کے بجائے جمعہ اور پیر کو ہفتہ وار چھٹی کی تجویز دی ہے۔

پاکستان بزنس فورم کے صدر احمد جواد نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے سبسڈی کا کہا مگر چند گھنٹے بعد ہی عوام پر معاشی حملہ کر دیا۔ ایک ماہ میں پٹرول 63 اور ڈیزل 75 فیصد مہنگا کرنا کیسا نظم وضبط ہے۔

احمد جواد نے مزید کہا کہ عوام نے حکومت کو 11 کھرب ٹیکس دیا، کیا ایک فیصد بھی ہم پرخرچ نہیں ہوسکتا؟ وفاقی بجٹ کا ایمرجنسی فنڈ کس مقصد کے لیے رکھا گیا تھا؟

ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں چاہتیں تو تیل کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکا جا سکتا تھا۔ ترقیاتی فنڈز کو پٹرولیم سبسڈی میں ضم کیا جا سکتا تھا۔ صوبائی حکومتیں با آسانی 300 ارب کا پیکج وفاق کے سپرد کر سکتی تھیں۔

صدر پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ پاکستانیوں کی فی کس آمدنی پٹرول کی موجودہ قیمتیں برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا، اشیا کی بڑھی ہوئی قیمتیں واپس نہیں آئیں گی۔ موٹر سائیکل پر سبسڈی کا منصوبہ قابل عمل نہیں، عملدرآمد مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں حکومت کو غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان حالات میں حکومت ریونیو فیکٹر معطل کرے اور عوام کے ساتھ کھڑی ہو۔ پٹرولیم لیوی کو فوری ختم کر کے صفر کیا جائے۔ ڈیزل پر درآمدی ڈیوٹی اور کاربن لیوی ایک ماہ کے لیے صفر کی جائے۔

صدر پاکستان بزنس فورم نے مزید کہا کہ مارکیٹ اوقات کم کرنے کے بجائے پیر اور جمعہ کی تعطیل کی جائے۔ صارفین کو ریلیف دینے کے لیے جی ایس ٹی دو ماہ کے لیے 10 فیصد کیا جائے اور بجلی بلوں میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ 2 ماہ کے لیے ختم کی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *