جو ملک ایران کو فوجی ہتھیار فراہم کرے گا اس پر فوری طور پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ قریبی سطح پر تعاون کرنے کا ارادہ رکھتا ہے

اور ان کے مطابق ایران میں ایک اہم اور مؤثر نوعیت کی حکومتی تبدیلی سامنے آئی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں یورینیم کی افزودگی نہیں ہونے دی جائے گی، جبکہ امریکا ایران کے ساتھ مل کر زیرِ زمین محفوظ کیے گئے جوہری مواد کو بی-2 بمبار طیاروں کی مدد سے نکال کر ختم کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام سرگرمیاں ماضی میں بھی اور اب بھی جدید سیٹلائٹ نگرانی کے تحت ہو رہی ہیں اور کسی قسم کی تبدیلی یا نقل و حرکت نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان محصولات اور پابندیوں میں نرمی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں اور 15 نکاتی ایجنڈے میں سے متعدد امور پر اتفاق بھی ہو چکا ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران کو عسکری ساز و سامان فراہم کرے گا، اس کے خلاف سخت تجارتی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ایسے ممالک پر امریکا کو برآمد کی جانے والی اشیا پر فوری طور پر 50 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا جائے گا، جس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *