ھاری کارڈ کے نام پر سندھ کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی!

ٹھاروشاہ (کاشان غفار خانزادہ)

ھاری کارڈ کے نام پر سندھ کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی!
سندھ بھر میں کسان اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گندم کی قیمت اوپن مارکیٹ میں 4000 روپے فی من تک پہنچ چکی ہے، مگر اس کے باوجود سندھ حکومت کی جانب سے “ھاری کارڈ” کے نام پر آبادگاروں اور کسانوں کو 3500 روپے فی من کے حساب سے گندم فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
کسانوں کا مؤقف:
کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں واضح پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر انہوں نے گندم سرکاری نرخ پر جمع نہ کروائی تو ان کا “ھاری کارڈ” بلاک کر دیا جائے گا۔
مجبوری کی انتہا
کئی کسانوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے کھانے کے لیے رکھی گئی گندم بھی صرف اس خوف سے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ان کا “ھاری کارڈ” بلاک نہ ہو جائے۔سوالیہ نشان
کیا یہ انصاف ہے کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ نہ دیا جائے؟
کیا “ھاری کارڈ” سہولت کے بجائے دباؤ کا ذریعہ بن چکا ہے؟
اعلیٰ حکام سے مطالبہ
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ:
اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے
کسانوں پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ بند کیا جائے
گندم کی خریداری مارکیٹ ریٹ کے مطابق کی جائے
عوام اور میڈیا سے اپیل
آئیں اس آواز کو بلند کریں تاکہ کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا خاتمہ ہو سکے۔
کسان کاحق ھاریکارڈ گندمبحران بھریا انصاف

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *